کیا تبراء کے عقیدے کے ساتھ ساتھ اتحاد امت ممکن ہے؟

 

سوال: کیا تبرّٰی کے عقیدے کے ساتھ ساتھ دوسروں سے اتحادِ امت ممکن ہے؟


از قلم 🖊️ علامہ محمد احمد فاطمی 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تبراء خود جیسے خدا و رسولؐ اور اہلِ بیتؑ نے کیا — ہم اعلانِ برائت کر رہے ہیں، اعلان بیزاری و اعلان علیحدگی و اعلان لاتعلقی کرتے ہیں، کسی کو گالیاں نہیں دے رہے۔
اتحادِ امت مشترکات پر ہے، جس میں اپنے اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے مشترک نکات (توحید، رسولِ پاکﷺ، کعبہ، قرآن، اہلِ بیتؑ) پر آگے بڑھنا ہے — سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی دشمن کے خلاف کے لیے۔ اسی طرح غیر مسلموں سے بھی، جیسا کہ سنت ہے، توحید پر اتحاد ہو سکتا ہے۔
سنی دوستوں کے احترام میں ہم یہی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں کہ جس محفل میں وہ ہوں وہاں ایسے تاریخی حقائق و واقعات و موضوعات پر بات ہی نہیں کی جاتی، جس میں کچھ ایسی حقیقتیں بھی پائی جائیں جو ان کے احساسات کو مجروح کر سکتی ہوں۔ 
لیکن یہ عمل ان کے احترام میں کیا جاتا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہم ان کو اپنا عقیدہ اپنانے یا ان کا عقیدہ اپنانے کی راہ پر چل پڑیں یا ان حقائق اور اپنے عقیدے کو اپنے نسلوں سے بیان نہ کریں یا خود اپنے عقیدے سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

تبرّٰی خدا کی سنت، نبیؐ کی سیرت، قرآن کا فرمان، عقل کا پیمان، اہلِ بیتؑ کا اعلان، اور مومن بالحق کی منافق سے تفریق کے لیے میزان ہے۔

یہ دعویٰ یا جملہ بازی نہیں — بلکہ قرآن و سنت و سیرت و عقلیات سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔


سورۃ البقرہ (۲:۱۶۶)
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ
ترجمہ: جب وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی تھی، ان لوگوں سے تبرّٰی کریں گے جنہوں نے ان کی پیروی کی تھی، اور وہ عذاب دیکھ لیں گے، اور ان کے سارے تعلقات منقطع ہو جائیں گے۔

سورۃ البقرہ (۲:۱۶۷)
وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا
ترجمہ: اور جو لوگ ان کی پیروی کرتے تھے وہ کہیں گے: کاش ہمیں دنیا میں واپسی ملتی تو ہم بھی ان سے تبرّٰی کرتے جیسے یہ ہم سے تبرّٰی کر چکے ہیں۔

سورۃ التوبہ (۹:۱)
بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین سے تبرّٰی کا اعلان ہے جن سے تم نے عہد کیا تھا۔

سورۃ التوبہ (۹:۳)
وَأَذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ
ترجمہ: اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن لوگوں کو اعلان ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے تبرّٰی کرتا ہے۔

سورۃ ہود (۱۱:۳۵)
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تُجْرِمُونَ
ترجمہ: کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے قرآن خود گھڑ لیا؟ کہہ دو: اگر میں نے گھڑا تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر ہے، اور میں اس جرم سے تبرّٰی کرتا ہوں جو تم کر رہے ہو۔

سورۃ الممتحنہ (۶۰:۴)
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ
ترجمہ: تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، تبرّٰی کرتے ہیں۔

۱۔
امام علی رضا (علیہ السلام):

"کَمالُ الدّینِ وِلایتُنا وَالبَراءَهُ مِن عَدُوِّنا"
ترجمہ: دین کا اکمال ہماری ولایت اور ہمارے دشمنوں سے برائت (تبرّی) میں ہے۔
(بحار الانوار، ج ۲۷، ص ۵۸)

۲۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام):

"کَذَبَ مَنِ ادَّعَی مَحَبَّتَنَا وَ لَمْ یتَبَرَّأْ مِنْ عَدُوِّنَا"
ترجمہ: جھوٹا ہے وہ جو ہماری محبت کا دعویٰ کرے مگر ہمارے دشمنوں سے تبرّی نہ کرے۔
(بحار الانوار، ج ۲۷، ص ۵۹)

۳۔
امام زین العابدین (علیہ السلام):

"مَن اَحبَّ اَعداءَنا فَقَد عادانا وَ نَحنُ مِنهُ بَراءٌ واللهُ عزَّ وجلَّ مِنهُ بَریءٌ"
ترجمہ: جو ہمارے دشمنوں سے محبت کرتا ہے اس نے ہم سے دشمنی کی، اور ہم اس سے بیزار ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے بیزار ہے۔
(بحار الانوار، ج ۲۷، ص ۶۰)

۴۔
امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام):

"شِیعَتُنَا اَلَّذِینَ یقِیمُونَ الصَّلَاهَ وَ یؤْتُونَ الزَّکَاهَ وَ یحِجُّونَ الْبَیتَ الْحَرَامَ وَ یصُومُونَ شَهْرَ رَمَضَانَ وَ یوَالُونَ أَهْلَ الْبَیتِ وَ یتَبرَّؤُنَ مِن أَعدائِهِم"
ترجمہ: ہمارے شیعہ وہ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، حج کرتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، اہلِ بیت کی ولایت رکھتے ہیں اور ان کے دشمنوں سے تبرّی کرتے ہیں۔
(صفات الشیعہ، ص ۴)

۵۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام):

"کَذَبَ مَن زَعَمَ اَنَّهُ مِن شیعتِنا وَ هُو مُتَمَسِّکٌ بِعُروهِ غَیرِنا"
ترجمہ: جھوٹا ہے وہ جو خود کو ہمارا شیعہ کہے مگر ہمارے علاوہ دوسرے (راہ) کو تھامے ہوئے ہو۔
(بحار الانوار، ج ۲، ص ۹۸)

۶۔
امیرالمومنین علی (علیہ السلام):

"لَا يَكْمُلُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّي يُحِبَّ مَنْ أَحَبَّهُ اللهُ سُبْحَانَهُ وَ يُبْغِضَ مَنْ أَبْغَضَهُ اللهُ سُبْحَانَهُ"
ترجمہ: کسی بندے کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک وہ اس سے محبت نہ کرے جس سے اللہ محبت کرتا ہے، اور اس سے بغض نہ رکھے جس سے اللہ بغض رکھتا ہے۔
(تصنیف غرر الحکم، ص ۸۸، حدیث ۱۴۷۷)

۷۔
امام حسن عسکری (علیہ السلام):

"اَحِبَّ فی اللهِ وَ اَبغِضْ فِیاللهِ وَ والِ فِیاللهِ وَ عادِ فیالله فَاِنَّهُ لاتُنالُ وِلایهُ اللهِ اِلاّ بِذلِکَ"
ترجمہ: اللہ کے لیے دوست رکھو اور اللہ کے لیے دشمن رکھو، اللہ کے لیے ولایت کرو اور اللہ کے لیے دشمنی کرو، کیونکہ اللہ کی ولایت صرف اسی طرح حاصل ہوتی ہے۔
(بحار الانوار، ج ۲۷، ص ۵۴)

۸۔
امیرالمومنین علی (علیہ السلام):

"لَا يَجْتَمِعُ حُبُّنَا وَ حُبُّ عَدُوِّنَا فِي جَوْفِ إِنْسَانٍ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ لِرَجُلٍ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ"
ترجمہ: ہماری محبت اور ہمارے دشمن کی محبت ایک انسان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی، کیونکہ اللہ نے کسی انسان کے لیے اس کے اندر دو دل نہیں بنائے۔
(نور الثقلین، ج ۴، ص ۲۳۴)

سوال یا سروس کی درخواست جمع کروائیں