بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شیعہ اثنا عشری مکتبِ فکر میں عدلِ الٰہی کا کلامی، قرآنی اور عقلی مطالعہ
تمہید
شیعہ اثنا عشری مکتبِ فکر میں عدل اصولِ دین میں ایک بنیادی اور مستقل اصل ہے۔ اس کا تعلق صرف اس سوال سے نہیں کہ "اللہ تعالیٰ ظلم کرتا ہے یا نہیں"، بلکہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی حکمت، افعالِ الٰہی، حسن و قبح، اختیارِ انسان، جبر و تفویض، قضا و قدر، مسئلۂ شر، ثواب و عقاب، نبوت، امامت اور معاد جیسے بنیادی کلامی مباحث شامل ہیں۔
شیعہ عقیدۂ عدل کا مرکزی تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عادل اور حکیم ہے، اس کے افعال عبث و بے مقصد نہیں، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور انسان کو اتنا اختیار حاصل ہے کہ اس کے اعمال پر اسے ذمہ دار قرار دینا عادلانہ ہو۔
باب اول: عدل کیا ہے؟
1۔ لغوی مفہوم
عربی میں عدل کا مفہوم توازن، برابری، درستگی، انصاف اور کسی چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ظلم کا مفہوم کسی چیز کو اس کے غیر مناسب مقام پر رکھنا، حق تلفی کرنا یا کسی کے حق کو پامال کرنا ہے۔
2۔ اصطلاحی مفہوم
علمِ کلام میں عدلِ الٰہی سے مراد یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ ہر ظلم، قبیح فعل، عبث اور بے حکمت عمل سے منزہ ہے؛ اس کے تمام افعال حکمت کے مطابق ہیں اور وہ بندوں کے ساتھ ان کے اختیار و استحقاق کے مطابق معاملہ کرتا ہے۔
باب دوم: اصولِ دین میں عدل کا مقام
شیعہ اثنا عشریہ کے ہاں اصولِ دین پانچ ہیں: توحید، عدل، نبوت، امامت، معاد۔
یہ ترتیب محض فہرست نہیں بلکہ ایک مربوط عقیدتی نظام کی نمائندگی کرتی ہے۔ توحید بتاتی ہے کہ حاکمِ حقیقی کون ہے۔ عدل بتاتا ہے کہ اس حاکمِ حقیقی کے افعال ظلم و عبث سے پاک ہیں۔ نبوت بتاتی ہے کہ اللہ نے انسان کی ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے۔ امامت ہدایت کے تسلسل اور دینی تبیین و حفاظت سے مربوط ہے۔ معاد اس دنیا کے اعمال کے آخری اور کامل حساب کو بیان کرتا ہے۔
باب سوم: قرآنِ مجید اور عدلِ الٰہی
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے ظلم سے منزہ ہونے کو متعدد مقامات پر واضح کرتا ہے۔
سورۂ یونس
«إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا
"بے شک اللہ لوگوں پر کسی چیز کا ظلم نہیں کرتا۔"»
سورۂ فصلت
«وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ
"اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔"»
سورۂ کہف
«وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
"اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔"
قرآن کا مجموعی تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم، علیم، رحیم اور عادل ہے اور اس کے افعال عبث و بے مقصد نہیں۔»
باب چہارم: حسن و قبحِ عقلی
شیعہ علمِ کلام میں عدل کو سمجھنے کے لیے حسن و قبحِ عقلی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی عقل بعض افعال کے حسن یا قبح کو مستقل طور پر سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مثلاً عقل یہ سمجھ سکتی ہے کہ عدل اچھا ہے، ظلم برا ہے، سچائی اچھی ہے، خیانت بری ہے، احسان اچھا ہے اور بے گناہ کو سزا دینا قبیح ہے۔
اس تصور کے مطابق عقل محض شرعی حکم کا انتظار کیے بغیر بعض بنیادی اخلاقی حقائق کو سمجھ سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ: چونکہ ظلم عقلاً قبیح ہے، اور اللہ تعالیٰ حکیم و عادل ہے، اس لیے ظلم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔
باب پنجم: کیا اللہ تعالیٰ "جو چاہے" وہ عدل ہے؟
یہاں ایک نہایت اہم کلامی فرق پیدا ہوتا ہے۔ اگر عدل کی تعریف صرف یہ کر دی جائے کہ "جو اللہ کرے وہی عدل ہے" تو پھر "عدل" ایک مستقل اخلاقی و عقلی حقیقت کے بجائے محض طاقتِ الٰہی کا نام بن جائے گا۔
امامیہ کلام میں اس کے بجائے اللہ تعالیٰ کو حکیم اور عادل مانا جاتا ہے اور اس کے افعال کو حکمت و مصلحت کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بیرونی طاقت اللہ تعالیٰ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ عدل کرے؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کمالِ حکمت و عدل کی حامل ہے اور ظلم اس کی ذات کے شایانِ شان نہیں۔
باب ششم: عدل اور اختیارِ انسان
یہ عقیدۂ عدل کا سب سے اہم انسانی پہلو ہے۔ اگر انسان اپنے اعمال میں مکمل طور پر مجبور ہو تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے: گناہ پر سزا کیوں؟ نیکی پر ثواب کیوں؟ امر و نہی کیوں؟ توبہ کیوں؟ امتحان کیوں؟
اس لیے شیعہ مکتبِ فکر انسان کے لیے حقیقی اختیار کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اس اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ سے مستقل اور بے نیاز ہے۔
انسان کا وجود، قدرت، عقل، جسم، ماحول اور مواقع سب اللہ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں، لیکن ان عطیات کے اندر انسان انتخاب اور ارادہ کرتا ہے۔
باب ہفتم: جبر، تفویض اور امر بین الامرین
اس مسئلے میں امامیہ روایت کی مشہور تعبیر ہے:
«لَا جَبْرَ وَلَا تَفْوِيضَ، بَلْ أَمْرٌ بَيْنَ أَمْرَيْنِ
یعنی: نہ مکمل جبر ہے اور نہ مکمل تفویض، بلکہ دونوں کے درمیان ایک امر ہے۔
جبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے افعال میں حقیقی اختیار نہیں رکھتا اور جو کچھ کرتا ہے مجبوراً کرتا ہے۔
تفویض کا مطلب یہ تصور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے افعال میں اس طرح مستقل اختیار دے دیا کہ وہ اللہ کی قدرت و تدبیر سے الگ ہوگیا۔
امر بین الامرین کے مطابق انسان صاحبِ اختیار ہے، مگر اللہ سے مستقل نہیں۔ یہی تصور اللہ کی حاکمیت اور انسان کی ذمہ داری دونوں کو برقرار رکھتا ہے۔»
باب ہشتم: عدل اور قضا و قدر
قضا و قدر کے مسئلے میں بھی بنیادی سوال یہی ہے: اگر اللہ تعالیٰ پہلے سے سب کچھ جانتا ہے تو انسان آزاد کیسے ہے؟
جواب یہ ہے کہ: اللہ کا علم انسان کو مجبور نہیں کرتا۔ کسی واقعے کا پہلے سے معلوم ہونا اور کسی شخص کو اس واقعے پر مجبور کرنا ایک چیز نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا علم انسان کے ارادے کو مجبور نہیں کرتا۔ اصولی فرق یہی ہے کہ علم علتِ جبر نہیں ہے۔
باب نہم: عدل اور مسئلۂ شر
یہ دنیا مصائب، بیماری، ظلم، جنگ، غربت اور قدرتی آفات سے خالی نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے: اگر اللہ عادل و قادر ہے تو شر کیوں موجود ہے؟
شیعہ کلام میں مسئلۂ شر کے مختلف پہلوؤں کو دیکھا جاتا ہے۔
اول: انسانی اختیار۔ بہت سے مظالم انسان خود اختیار کرتا ہے۔ قتل، ظلم، خیانت، استبداد اور حق تلفی کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
دوم: دنیا امتحان ہے۔ قرآن مجید دنیاوی زندگی کو امتحان سے مربوط کرتا ہے۔
سوم: محدود انسانی علم۔ انسان کسی واقعے کے تمام اسباب و نتائج نہیں جانتا۔
چہارم: آخرت۔ دنیا آخری عدالت نہیں۔ بہت سے مظلوموں کو ان کا مکمل حق یہاں نہیں ملتا اور بہت سے ظالم دنیا میں سزا سے بچ جاتے ہیں۔ عقیدۂ معاد اس ادھورے پن کو کامل عدل کے تصور سے جوڑتا ہے۔
باب دہم: عدل اور معاد
اگر انسان کے اعمال کا کوئی آخری حساب نہ ہو تو دنیا میں ہونے والے بہت سے مظالم کا مکمل ازالہ ممکن نہیں۔
ایک ظالم پوری زندگی ظلم کرتا رہا اور بغیر سزا کے مر گیا، جبکہ ایک مظلوم پوری زندگی ظلم سہتا رہا اور دنیا ہی میں مر گیا۔ اگر صرف دنیا ہی آخری حقیقت ہو تو کامل عدل کہاں ظاہر ہوگا؟
یہاں معاد عدل کا لازمی تقاضا بن جاتا ہے۔ قیامت میں اعمال کا حساب ہوگا، حقوق کا فیصلہ ہوگا، ظلم کا ازالہ ہوگا، نیکی کی جزا ہوگی اور برائی کی سزا ہوگی۔
باب یازدہم: عدل اور نبوت
اگر اللہ تعالیٰ حکیم و عادل ہے تو انسان کو اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا بھی حکمت کا تقاضا ہے۔ انسان کو صرف عقل دے کر چھوڑ دینا کافی نہیں، کیونکہ عقل کی حدود ہیں، خواہشات عقل کو متاثر کرسکتی ہیں، معاشرتی ماحول انسان پر اثر انداز ہوتا ہے اور تمام حقائق عقل کے ذریعے مستقل طور پر دریافت نہیں کیے جاسکتے۔
اسی لیے الٰہی ہدایت اور انبیاء کی بعثت عدل و حکمتِ الٰہی کے وسیع نظام کا حصہ ہے۔
باب دوازدہم: عدل اور امامت
شیعہ اثنا عشری عقیدے میں امامت کا مسئلہ عدل سے بھی مربوط ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ہدایت دی، انبیاء بھیجے اور دین عطا کیا تو رسولِ اکرم ﷺ کے بعد دین کی صحیح تبیین، حفاظت اور رہنمائی کا مسئلہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
یہاں امامیہ کلام امامت کو الٰہی ہدایت کے تسلسل اور حجتِ الٰہی کے تصور سے مربوط کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصولِ دین کے تمام مباحث کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مربوط نظام کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
باب سیزدہم: امامیہ اور معتزلہ
امامیہ اور معتزلہ کے درمیان عدل کے بعض کلامی مباحث میں نمایاں قربت پائی جاتی ہے، خصوصاً حسن و قبحِ عقلی، افعالِ الٰہی کی حکمت، ظلم کی نفی اور انسانی اختیار کے مسائل میں۔
لیکن دونوں کو مکمل طور پر ایک ہی مکتب قرار دینا درست نہیں۔ امامیہ کا نظامِ عقائد اپنے مستقل مصادر، نصوصِ اہل بیتؑ اور امامت کے نظریے کے ساتھ ایک جداگانہ مکتب ہے۔
باب چهاردہم: امامیہ اور اشاعرہ
اشعری کلام میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے، جبکہ امامیہ کلام میں حسن و قبحِ عقلی اور عدلِ الٰہی کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اختلافات میں بالخصوص حسن و قبحِ عقلی، افعالِ عباد، جبر و اختیار، افعالِ الٰہی کی غرض و غایت، اور تکلیف و جزا و سزا جیسے مسائل شامل ہیں۔
یہاں علمی گفتگو میں یہ کہنا درست نہیں کہ ایک مکتب "اللہ کو عادل مانتا ہے" اور دوسرا "نہیں مانتا"؛ اصل اختلاف عدل کی فلسفیانہ و کلامی تعبیر پر ہے۔
باب پانزدہم: امامیہ اور ماتریدیہ
ماتریدی کلام میں بھی عقل کو اہم مقام حاصل ہے اور اشعری مکتب کے مقابلے میں حسن و قبحِ عقلی کے بارے میں زیادہ عقلی بحث ملتی ہے۔
تاہم امامیہ اور ماتریدیہ کے درمیان بھی افعالِ الٰہی، انسانی اختیار، حسن و قبح، صفاتِ الٰہی اور قضا و قدر کے بارے میں نمایاں اختلافات موجود ہیں۔
لہٰذا "اہل سنت" کو ایک یکساں کلامی موقف رکھنے والا گروہ سمجھنا بھی علمی اعتبار سے درست نہیں۔
باب شانزدہم: عدل اور مساوات میں فرق
عدل کا مطلب ہمیشہ مساوات نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر ایک استاد ہر طالب علم کو امتحان میں برابر نمبر دے تو یہ بظاہر مساوات ہے، مگر ضروری نہیں کہ عدل ہو۔
عدل کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کے ساتھ حق اور استحقاق کے مطابق معاملہ کیا جائے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا عادل ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ تمام انسانوں کو دنیا میں بالکل ایک جیسے رزق، صلاحیت، حالات، صحت اور مواقع ملیں؛ بلکہ عدل کا تعلق حکمت، استحقاق، تکلیف اور آخری جزا و سزا سے ہے۔
باب ہفدہم: عدل کا اخلاقی اثر
عقیدۂ عدل صرف ایک نظری فلسفیانہ بحث نہیں۔ اگر انسان واقعی مانتا ہے کہ اللہ عادل ہے اور انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے تو اس کے اندر بھی عدل کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے۔
اس کا نتیجہ ظلم سے اجتناب، حقوق العباد کی رعایت، یتیم اور کمزور کی حمایت، جھوٹ و خیانت سے پرہیز، معاشرتی انصاف، مظلوم کی حمایت اور ظالم کے مقابلے میں حق گوئی کی صورت میں ظاہر ہونا چاہیے۔
لہٰذا عدلِ الٰہی کا صحیح فہم عدلِ انسانی کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔
چند اہم شبہات
شبہ 1: اگر اللہ سب کچھ جانتا ہے تو انسان مجبور ہے۔
جواب: علم، جبر نہیں ہے۔ اللہ انسان کے اختیار سے انجام پانے والے عمل کو جانتا ہے؛ اس کا علم انسان کے ارادے کو مجبور نہیں کرتا۔
شبہ 2: اگر اللہ کسی کو ہدایت نہ دے تو اس کا قصور کیا؟
جواب: یہ مسئلہ ہدایت، اختیار، حجت، ارادہ اور الٰہی سنتوں کے تفصیلی مباحث سے متعلق ہے۔ عمومی اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر حجت قائم کیے بغیر ظلم کی بنیاد پر سزا نہیں دیتا۔
شبہ 3: دنیا میں اتنی ناانصافی کیوں ہے؟
جواب: دنیا آخری عدالت نہیں۔ انسانی اختیار، دنیا کا امتحانی نظام اور آخرت میں کامل حساب اس سوال کو ایک جامع تناظر فراہم کرتے ہیں۔
شبہ 4: اگر اللہ چاہے تو گناہ روک سکتا ہے، پھر گناہ کیوں ہوتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ساتھ اس کی حکمت بھی ملحوظ ہے۔ اگر ہر برائی کو زبردستی روک دیا جائے تو انسانی اختیار، امتحان اور اخلاقی ذمہ داری کا موجودہ نظام باقی نہیں رہتا۔
شیعہ اثنا عشری عقیدے میں عدل کا خلاصہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ عادل اور حکیم ہے۔ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اس کے افعال عبث اور بے مقصد نہیں۔ عقل بنیادی حسن و قبح کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انسان اپنے اعمال میں حقیقی اختیار رکھتا ہے۔ انسان نہ مکمل مجبور ہے اور نہ اللہ سے مستقل و بے نیاز۔ یہی "امر بین الامرین" کا تصور ہے۔ دنیا میں ہونے والے تمام واقعات کو صرف ظاہری سطح پر دیکھ کر عدلِ الٰہی کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ آخرت میں عدلِ الٰہی کا کامل ظہور ہوگا۔
نتیجہ
«عقیدۂ عدل سے مراد یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کمالِ مطلق کا مالک، حکیم اور عادل ہے؛ وہ ظلم، عبث اور قبیح فعل سے منزہ ہے؛ اس کے افعال حکمت کے مطابق ہیں؛ انسان کو محدود مگر حقیقی اختیار حاصل ہے اور اسی اختیار کی بنیاد پر وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے؛ نہ جبرِ مطلق درست ہے نہ تفویضِ مطلق؛ بلکہ امر بین الامرین ہے؛ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کامل عدل کے ساتھ بندوں کے اعمال کا حساب کرے گا۔»
توحید ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کون ہے؛ عدل ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کا نظامِ فعل ظلم و عبث سے پاک ہے؛ نبوت و امامت ہدایت کا راستہ دکھاتی ہیں؛ اور معاد اس عدل کے آخری اور کامل ظہور کی منزل ہے۔
علامہ محمد احمد فاطمی
______________________
بنیادی مصادر
قرآن مجید، نہج البلاغہ، صحیفۂ سجادیہ، اصولِ کافی، کتاب التوحید، شیخ صدوق کی التوحید، شیخ مفید کی اوائل المقالات، سید مرتضیٰ کی الذخیرہ فی علم الکلام، شیخ طوسی کی الاقتصاد الہادی إلى طریق الرشاد، علامہ حلی کی الباب الحادی عشر، علامہ حلی کی کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد اور شہید مرتضیٰ مطہری کی عدلِ الٰہی
