اثنا عشری شیعہ عقیدہ توحید کیا ہے؟



توحید — اثنا عشری شیعہ  عقیدہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
توحید کا مطلب اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، افعال اور عبادت میں یکتائی اور بےمثالی کو ماننا ہے۔ اثنا عشری شیعہ عقیدے میں توحید صرف یہ ماننا نہیں کہ “خدا ایک ہے” بلکہ یہ بھی ماننا ہے کہ اللہ اپنی ذات میں یکتا، اپنی صفات میں بےمثال، اپنے افعال میں مستقل اور عبادت کا واحد مستحق ہے۔ اثنا عشری کلام میں توحید کو عموماً چار بنیادی جہات سے سمجھا جاتا ہے: توحید ذاتی (اللہ کی ذات واحد اور بےمثل ہے)، توحید صفاتی (اللہ کی صفات اس کی ذات سے جدا اور مستقل موجودات نہیں)، توحید افعالی (حقیقی استقلال اور تاثیر بالذات صرف اللہ کے لیے ہے)، اور توحید عبادی (عبادت صرف اللہ کی کی جا سکتی ہے)۔

توحید ذاتی
اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ جسم نہیں، مکان و زمان کا محتاج نہیں، محدود نہیں، مرکب نہیں، کسی کا محتاج نہیں، کسی سے پیدا نہیں ہوا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ جیسا کہ قرآن میں سورۂ اخلاص (112:1–4) میں ارشاد ہوا: "قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ، اللّٰهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ۔" ایک اہم شیعہ کلامی نکتہ یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت عددی وحدت نہیں کہ ایک خدا ہو اور اس جیسے دوسرے خدا ممکن ہوں، بلکہ اللہ واجب الوجود ہے اور اس کا کوئی مماثل یا شریک ممکن نہیں۔

توحید صفاتی 
اثنا عشری کلام کا بہت اہم موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم، قادر، حی، سمیع اور بصیر ہے، لیکن یہ صفات ایسی الگ الگ ازلی ہستیاں نہیں کہ اللہ ایک ذات ہو اور علم دوسری مستقل قدیم حقیقت۔ شیعہ متکلمین کے ہاں بنیادی تصور یہ ہے کہ صفاتِ ذات، عینِ ذاتِ الٰہی ہیں، یعنی اللہ کا علم، قدرت اور حیات اس کی ذات سے الگ مستقل قدیم موجودات نہیں۔ مثال کے طور پر انسان میں ذات اور علم الگ الگ ہیں، لیکن اللہ کے بارے میں شیعہ کلامی تصور میں ذاتِ خدا اور علمِ خدا دو مستقل قدیم حقیقتیں نہیں، اور یہ تصور توحید کو متعدد ازلی اصولوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

توحید افعالی
اگر اللہ ہی خالق اور مؤثر ہے تو کیا انسان مجبور ہے؟ جواب نہیں ہے۔ اثنا عشری شیعہ کلام کا معروف اصول "لَا جَبْرَ وَلَا تَفْوِيضَ بَلْ أَمْرٌ بَيْنَ أَمْرَيْنِ" یعنی نہ مکمل جبر، نہ مکمل تفویض؛ بلکہ دونوں کے درمیان ایک امر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ارادہ کرتا ہے، انتخاب کرتا ہے، عمل کرتا ہے اور اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے، لیکن انسان کی وجود، قدرت، اختیار اور توانائی سب اللہ کی عطا کردہ ہیں، لہٰذا انسان مختار ہے مگر مستقل بالذات نہیں۔

توحید عبادی
عبادت صرف اللہ کی ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" یعنی "ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔" ایک اہم شیعہ نکتہ یہ ہے کہ عبادت اور تعظیم/تکریم میں فرق کیا جاتا ہے، مثلاً والدین کا احترام ان کی عبادت نہیں، اسی طرح رسول ﷺ کی اطاعت ان کی عبادت نہیں، اور اہل بیتؑ سے محبت و تعظیم ان کی عبادت نہیں۔

اثنا عشری شیعہ عقیدے میں شفاعت توحید کے خلاف نہیں ہے کیونکہ شفاعت کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص اللہ کے مقابلے میں مستقل اختیار رکھتا ہے، بلکہ یہ اللہ کے اذن سے ہوتی ہے۔ قرآن میں ہے: "مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ" ("کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرے؟" البقرہ 2:255)۔ لہٰذا مستقل شفاعت اللہ کے ساتھ شریک بنانا ہے، 
لیکن اذنِ الٰہی سے شفاعت توحید کے دائرے میں ہے۔ اسی طرح شیعہ تصور میں توسل بھی اسی اصول پر مبنی ہے، مثلاً "یا علیؑ، اللہ کے اذن سے میری مدد فرمائیے" میں علیؑ کو خدا یا مستقل بالذات خالق و مؤثر نہیں سمجھا جاتا بلکہ تصور یہ ہے کہ اللہ حقیقی مؤثر ہے اور نبی/امام اللہ کے اذن سے وسیلہ ہیں، اسی لیے شیعہ علماء توسل کو عبادتِ غیر اللہ کے برابر نہیں سمجھتے۔

اثنا عشری شیعہ عقیدے میں ائمہؑ خدا نہیں، خدا کے شریک نہیں، مستقل خالق نہیں، مستقل رازق نہیں اور واجب الوجود نہیں، بلکہ اللہ کے بندے، حجت اور منتخب رہنما ہیں۔ اسی لیے مشہور زیارتِ جامعہ کبیرہ میں ائمہؑ کے بارے میں بندگی اور اللہ کی طرف نسبت دونوں پہلو نمایاں ہیں۔

 ولایت کے بارے میں ایک اہم کلامی نکتہ یہ ہے کہ ولایت الوہیت نہیں ہے؛ شیعہ تصور میں اللہ معبود ہے، رسول ﷺ رسول ہیں، علیؑ امام ہیں اور ائمہؑ حججِ الٰہی ہیں، لہٰذا امام کی ولایت ماننا امام کو خدا ماننا نہیں بلکہ ولایت خود اللہ کے مقرر کردہ نظامِ ہدایت کا حصہ ہے۔

اثنا عشری اصولِ دین میں توحید، عدل، نبوت، امامت اور قیامت شامل ہیں، اور عدل کا تعلق بھی توحید سے گہرا ہے۔ شیعہ کلام میں اللہ کو ظالم، محتاج، عاجز یا حکمت سے خالی نہیں مانا جاتا بلکہ اللہ کے افعال حکمت کے مطابق ہیں۔ اثنا عشری شیعہ فکر میں عقل کو توحید کے اثبات اور سمجھنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مثال کے طور پر اگر دو مستقل واجب الوجود خدا ہوں تو دونوں واجب ہوں گے، دونوں کی حقیقت میں امتیاز کی ضرورت ہوگی، امتیاز کسی خصوصیت سے ہوگا اور پھر ترکیب/محدودیت کا مسئلہ پیدا ہوگا، لہٰذا واجب الوجود حقیقی طور پر ایک ہی ہو سکتا ہے، اور یہاں سے شیعہ فلسفیانہ روایت میں وحدتِ واجب الوجود کی بحث سامنے آتی ہے۔

شیعہ عقیدہ اللہ کو مخلوق کے مشابہ قرار دینے سے سختی سے اجتناب کرتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" ("اس جیسی کوئی چیز نہیں،" الشوریٰ 42:11)۔ لہٰذا اللہ کے بارے میں جسم، شکل، مکان، حدود، اعضاء اور انسانی خصوصیات کا تصور نہیں کیا جاتا، جسے تنزیہ کہا جاتا ہے۔ شیعہ کلام میں تشبیہ (اللہ کو مخلوق جیسا سمجھنا، مثلاً خدا انسانی جسم رکھتا ہے) باطل ہے اور تعطیل (اللہ کی صفات اور معرفت کو بالکل ناممکن قرار دینا) بھی درست نہیں، بلکہ شیعہ کلامی راستہ "اثبات بلا تشبیہ" ہے، یعنی اللہ کی صفات کو ماننا مگر مخلوق کی صفات کے مشابہ نہ سمجھنا۔

خلاصہ یہ کہ اثنا عشری تصورِ توحید اس فارمولے میں سمجھا جا سکتا ہے کہ توحید ذاتِ الٰہی (واحد و بےمثل)، صفاتِ الٰہی (عینِ ذات) اور افعالِ الٰہی (مستقل بالذات، صرف اللہ) پر مشتمل ہے، اور یہ سب عبادت صرف اللہ کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ شفاعت، توسل اور ولایت اللہ کے اذن سے ہیں۔ 

ایک جملے میں اثنا عشری تصورِ توحید یہ ہے کہ "اللہ ذاتاً واحد و بےمثل، صفاتاً غیرِ مرکب، افعالاً مستقل و حقیقی مؤثر، اور عبادتاً واحد معبود ہے؛ ہر مخلوق کی قدرت، ولایت، شفاعت اور تاثیر اللہ کے اذن و عطا کے تحت ہے۔"

علامہ محمد احمد فاطمی 
قم المقدس 
 اس سلسلے میں بنیادی مصادر میں قرآن مجید (سورۂ اخلاص، البقرہ 255، الشوریٰ 11)، نہج البلاغہ (خطبۂ توحید)، الشیخ الصدوق (التوحید)، الشیخ المفید (أوائل المقالات)، علامہ حلی (الباب الحادی عشر)، صدرالمتألہین (الحکمة المتعالیہ — فلسفیانہ سطح پر توحید و وجود کی بحث) اور علامہ طباطبائی (المیزان — قرآنی/تفسیری زاویہ) شامل ہیں۔

سوال یا سروس کی درخواست جمع کروائیں