مرجع اعلم کو کیسے پہچانیں؟



بسمہ تعالیٰ 
اعلم مجتہد کی پہچان

اعلم مجتہد کی پہچان تین طریقوں سے ہو سکتی ہے


❶ ذاتی علم اور یقین
اگر کوئی شخص خود صاحبِ علم ہو، مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو، اور اسے کسی کے مجتہد اعلم ہونے کا ذاتی یقین ہو جائے۔

❷ دو عادل عالم کی گواہی
دو ایسے عالم و عادل افراد، جو مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کا ملکہ رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد اعلم ہونے کی تصدیق کریں — بشرطیکہ دو اور عالم و عادل ان کی تردید نہ کریں۔ نیز ایک قابل اعتماد شخص کا قول بھی ظاہری طور پر کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کے لیے کافی ہے۔

❸ اہل خبرہ کی تصدیق
کچھ اہل علم (اہل خبرہ) جو مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں اور ان کی تصدیق سے انسان مطمئن ہو جائے۔

🏛️ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کا بیان

جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم — جو خود اہل خبرہ ہے اور جس میں متعدد علماء کرام شامل ہیں — نے ایک اہم اعلان کیا ہے

مندرجہ ذیل آیات عظام سب مجتہد جامع الشرائط ہیں، اور ان میں سے کسی ایک کی تقلید کرنا شرعاً جائز ہے۔

📗 آیت اللہ العظمیٰ حسینی سیستانی
📗 آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی
📗 آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی
 آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی
📗 آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی


📌 اہم نکات:

✅ ان پانچوں مراجعِ کرام میں سے کسی ایک کی تقلید درست ہے، اور اس بارے میں الگ سے تحقیق کی ضرورت نہیں۔

✅ اس بیان کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سب ایک ہی درجے کے ہیں — یہ صرف اس بات کی تصدیق ہے کہ ہر ایک کی تقلید جائز ہے۔

✅ فہرست میں ناموں کی ترتیب کوئی اولویت یا درجہ بندی ظاہر نہیں کرتی۔

✅ جو شخص اب تک کسی مرجع کی تقلید نہیں کر رہا، وہ ان پانچوں میں سے کوئی ایک انتخاب کر سکتا ہے۔

✅ اگر کوئی پہلے ہی ان میں سے کسی کا مقلد ہے، لیکن کسی مسئلہ میں اس کے مرجع نے احتیاطِ واجب کا حکم دیا ہو، تو وہ اسی ایک مسئلہ میں ان پانچوں میں سے کسی دوسرے مرجع کی تقلید کر سکتا ہے۔

واللہ اعلم

 علامہ محمد احمد فاطمی

سوال یا سروس کی درخواست جمع کروائیں