حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ افغانستان (یادگار آیت اللہ العظمیٰ آصف محسنیؒ) پر طالبان کے قبضے اور تالابندی کی شدید الفاظ میں مذمت


کابل میں حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ پر طالبان اہلکاروں کی آمد، اساتذہ و طلبہ کو حوزہ خالی کرنے کا حکم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

یہ صرف ایک عمارت کا معاملہ نہیں؛ یہ علم، تعلیم، دینی تحقیق اور ایک بڑی علمی میراث سے وابستہ ادارے کا معاملہ ہے۔ حوزہ خاتم النبیینؐ نے برسوں افغانستان میں علمی، دینی، تحقیقی اور تعلیمی خدمات انجام دی ہیں اور شیعہ علمی و تعلیمی حلقوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

علمی اداروں پر طاقت کا استعمال، اساتذہ و طلبہ کو خوفزدہ کرنا، اور مذہبی و علمی مراکز کی آزادی کو محدود کرنا کسی بھی معاشرے کے لیے ایک تشویشناک رجحان ہے۔ حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ انتہائی قابلِ مذمت اور باعثِ تشویش ہے۔

یہاں پر ہم آیت اللہ العظمیٰ محمد آصف محسنیؒ کا تعارف بھی کرواتے چلیں کہ آپ ایک فقیہ، محدث، محقق، دینی رہنما اور بانیِ حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ افغانستان تھے

آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد آصف محسنیؒ افغانستان کے ممتاز شیعہ عالمِ دین، فقیہ، محدث، محقق اور مذہبی و سیاسی رہنما تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینی علوم کی تعلیم و تدریس، فقہ و حدیث کی تحقیق، اسلامی معارف کی ترویج اور افغانستان کے علمی و مذہبی اداروں کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کی۔

آپ 1935ء میں قندھار، افغانستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی دینی تعلیم کے بعد اعلیٰ دینی علوم کے حصول کے لیے نجف اشرف تشریف لے گئے، جہاں فقہ، اصول، حدیث، رجال اور دیگر اسلامی علوم کی تحصیل کی اور جلیل القدر علماء و مراجع سے استفادہ کیا۔ بعد ازاں افغانستان واپس آکر دینی و علمی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

آیت اللہ محسنیؒ افغانستان کی معاصر تاریخ میں ایک اہم مذہبی شخصیت کے طور پر نمایاں ہوئے۔ آپ نے حرکت اسلامی افغانستان کی بنیاد رکھی اور افغانستان کے شیعہ مسلمانوں کی سیاسی، دینی اور اجتماعی نمائندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح شورای علمای شیعہ افغانستان کے قیام اور فعالیت میں بھی آپ کا نمایاں کردار رہا۔

آیت اللہ محسنیؒ کی سب سے نمایاں علمی خدمات میں کابل میں حوزہ علمیہ و دانشگاه خاتم النبیینؐ کا قیام شامل ہے۔ یہ ادارہ افغانستان میں شیعہ دینی و علمی تعلیم کا ایک اہم مرکز بن گیا، جہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا گیا۔

حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ نے برسوں تک افغانستان میں علماء، طلبہ اور محققین کی علمی تربیت میں کردار ادا کیا اور شیعہ علمی حلقوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آیت اللہ محسنیؒ کی وفات کے بعد بھی یہ ادارہ ان کی علمی میراث اور دینی خدمات کی ایک اہم یادگار کے طور پر موجود رہا۔

آیت اللہ محسنیؒ ایک کثیرالتصنیف عالم تھے۔ ان کی تحقیقات کا دائرہ فقہ، اصول، حدیث، علم الرجال، عقائد، تفسیر، اخلاق، اسلامی فکر، سیاسی و اجتماعی مسائل اور افغانستان کے حالات تک پھیلا ہوا تھا۔

خصوصاً علمِ حدیث اور رجال میں ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ ان کی کتاب «معجم الأحادیث المعتبرة» اور رجال و حدیث سے متعلق دیگر تحقیقات ان کے وسیع علمی کام کی عکاس ہیں۔

ان کی اہم تصانیف میں درج ذیل کتب شامل ہیں:

1. بحوث فی علم الرجال

2. فوائد رجالیہ

3. معجم الأحادیث المعتبرة

4. مشرعة بحار الأنوار

5. طرق تشخیص احادیث اعتبار بحار الأنوار

6. شرح بدایة علم الرجال

7. القواعد الأصولیة والفقہیة

8. حدود الشریعة فی محرماتها وواجباتها

9. الفقه والمسائل الطبیة

10. الضمانات الفقهیة وأسبابها

11. القضاء والشهادات

12. شرح کتاب الدیات

13. شرح کتاب الصوم من العروة

14. شرح کتاب الحیض من العروة

15. حاشیة مناسک الحج

16. توضیح المسائل طبی

17. توضیح المسائل جنگی

18. توضیح المسائل سیاسی

19. صراط الحق فی المعارف الإسلامیة

20. عقاید اسلام از نظر علم و فلسفه

21. عقاید برای همه

22. العقائد الإسلامیة

23. المعارف والعقائد

24. توحید اسلامی و نظری بر وهابیت

25. توحید نظری

26. متافیزیک از نظر رئالیزم

27. خداشناسی منهای دین

28. روح از نظر دین و عقل و علم روحی جدید

29. فوائد دین در زندگانی

30. دین و زندگانی

31. روش جدید اخلاق اسلامی

32. اخلاق اسلامی

33. تسنیم

34. حجت

35. قرآن یا سند اسلام

36. خصائص خاتم النبیینؐ

37. تفسیر سورۂ شمس

38. افق اعلیٰ

39. مهدی موعود

40. عاشورا و اهمیت دین

41. تقریب مذاهب؛ از نظر تا عمل

42. شیعه و سنی چه فرق دارند

43. جنگ در تاریکی

44. همبستگی اسلامی و دشمنان آن

45. همبستگی اسلامی

46. وحدت اخوت

47. روابط انسان

48. زن در شریعت اسلامی

49. وظیفۀ علمای دینی ما

50. نظم مفید

51. جوان و دورۀ جوانی

52. خود را بسازیم

53. راه ترقی

54. در پناه دین

55. مسائل کابل

56. تصویری از حکومت اسلامی در افغانستان

57. حکومت اسلامی

58. تصویب قانون اساسی در لویه جرگہ

59. حوادث شیعیان افغانستان

60. حوادث افغانستان

61. مسائل پاراچنار

62. مسائل لندن

63. دفاع و حرکت

64. جهاد اسلامی

65. فوائد دمشقیہ

66. ستارۀ اسلام

67. وظایف اعضای بدن

68. عقاید و اخلاق و فقه

69. گوناگون

70. گفتگوی دو رفیق

71. نظریات

72. خاطرات زندگی

73. فوائد دین در زندگی و عقاید اسلامی

74. الأرض فی الفقه

75. شرح کفایة الأصول

76. عدالة الصحابة

77. تقریرات دروس سیدنا الأستاذ

آیت اللہ محسنیؒ کا علمی کام صرف کتابوں تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے افغانستان میں دینی مدارس، علمی مراکز اور مذہبی اداروں کے قیام و استحکام کے لیے عملی جدوجہد کی۔ آپ اتحادِ امت، تقریبِ مذاہب، دینی تعلیم اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے موضوعات پر بھی مسلسل کام کرتے رہے۔

آپ نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان باہمی مفاہمت اور اسلامی وحدت پر زور دیا، جبکہ افغانستان کے شیعہ مسلمانوں کے مذہبی و شہری حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائی۔

آیت اللہ العظمیٰ محمد آصف محسنیؒ 5 اگست 2019ء کو کابل میں وفات پا گئے۔ آپ کی وفات افغانستان کے علمی و مذہبی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دی گئی۔

آپ کو حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ کابل میں سپردِ خاک کیا گیا؛ یوں آپ کی آخری آرام گاہ بھی اسی علمی مرکز میں بنی جو آپ کی زندگی کی سب سے نمایاں علمی یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔

آیت اللہ محسنیؒ کی شخصیت کو افغانستان کی معاصر شیعہ علمی تاریخ میں ایک ایسے عالم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے قلم، تدریس، تحقیق، ادارہ سازی اور اجتماعی جدوجہد—ان تمام میدانوں میں اپنا اثر چھوڑا۔

ان کی تصانیف، حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ اور دیگر علمی و دینی خدمات آج بھی ان کی علمی میراث کا حصہ ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ایک عالمِ دین کس طرح علمی تحقیق کے ساتھ ساتھ ایک پورے معاشرے کے دینی، تعلیمی اور فکری مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً واسعۃً

ما شیعیان پاکستان، در این لحظه دشوار، همگام با برادران شیعه افغانستان خود ایستاده‌ایم. ہم شیعیانِ پاکستان اس لمحے میں اپنے افغان شیعہ بھائیوں کے ہم قدم کھڑے ہیں اور علمی و مذہبی آزادیوں کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

علامہ ابوالمہدی احمد فاطمی


#حوزه_علمیه_خاتم_النبیین #خاتم_النبیین #آیت_الله_آصف_محسنی #شیعیان_افغانستان #کابل #طالبان #سرکوب_شیعیان #مذہبی_آزادی #حقوق_شیعیان #شیعیان_پاکستان

سوال یا سروس کی درخواست جمع کروائیں