علامہ ابوالمہدی احمد فاطمی 🖊️
تمہید
فلسفے کی تاریخ میں بعض سوالات ایسے ہیں جو مختلف زمانوں میں نئے انداز سے سامنے آتے رہے ہیں، لیکن ان کی بنیادی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ان میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ وجود کیا ہے اور کسی شے کے موجود ہونے کا مطلب کیا ہے؟ ہم کسی چیز کے بارے میں یہ جان سکتے ہیں کہ وہ کیا ہے، مگر کیا اس کی ماہیت کو جان لینا اس کے خارجی وجود کو بھی ثابت کردیتا ہے؟ اسی طرح جب ہم انسان، درخت، زمین اور دیگر اشیا کو موجود کہتے ہیں تو کیا ان سب میں کوئی مشترک حقیقت پائی جاتی ہے، یا وجود کا لفظ مختلف چیزوں کے لیے مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے؟ یہ سوالات فلسفۂ وجود کی بنیاد بناتے ہیں۔
تصورِ وجود کی تاریخی تشکیل کو سمجھنے کے لیے ارسطو سے آغاز کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ارسطو نے مابعد الطبیعیات کو موجود بحیثیت موجود کے مطالعے کے طور پر پیش کیا۔ بعد میں اسلامی فلاسفہ نے اس بحث کو آگے بڑھایا اور اس کے کئی ایسے پہلو واضح کیے جو یونانی فلسفے میں اس صورت میں موجود نہیں تھے۔ فارابی نے یونانی فلسفیانہ روایت کی تشکیل و توضیح میں حصہ لیا، ابن سینا نے وجود و ماہیت کے امتیاز اور واجب و ممکن الوجود کی بحث کو منظم کیا، سہروردی نے مشائی فلسفے کے بعض بنیادی مقدمات پر تنقید کی، جبکہ ملا صدرا نے اصالتِ وجود اور تشکیکِ وجود کے ذریعے ایک جامع مابعد الطبیعیاتی نظام تشکیل دیا۔ علامہ سید محمد حسین طباطبائی نے اسی روایت کو جدید دور میں منظم درسی اور استدلالی صورت میں پیش کیا۔
اس سفر کو محض مختلف فلسفیوں کے نظریات کی فہرست سمجھنا مناسب نہیں۔ اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ ایک مفکر کے پیش کردہ سوالات نے بعد کے فلسفیوں کو کس طرح متاثر کیا، انہوں نے سابقہ نظریات میں کیا مشکلات محسوس کیں، اور ان کے حل کے لیے کون سے نئے دلائل اختیار کیے۔ اسی زاویے سے ارسطو سے علامہ طباطبائی تک تصورِ وجود کی تاریخ کا مطالعہ زیادہ بامعنی ہوجاتا ہے۔
ارسطو: وجود اور مابعد الطبیعیات کی بنیاد
ارسطو (384–322 ق م) کی کتاب مابعد الطبیعیات فلسفۂ وجود کی تاریخ میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ارسطو فلسفۂ اولیٰ کو موجود بحیثیت موجود کے مطالعے سے تعبیر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسفہ صرف کسی ایک قسم کی اشیا، مثلاً جسمانی موجودات، کا مطالعہ نہیں کرتا، بلکہ ان اصولوں اور علل کی تحقیق کرتا ہے جن کی روشنی میں موجودات کو عمومی طور پر سمجھا جاسکے (Aristotle, Metaphysics, Books IV, VII, IX, XII)۔
ارسطو کے ہاں جوہر (Substance) کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ ہم کسی چیز کے بارے میں اس کا رنگ، حجم، کیفیت اور دوسری خصوصیات بیان کرسکتے ہیں، لیکن ان اوصاف کے حامل موجود کا سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔ ارسطو جوہر کی بحث کے ذریعے اسی بنیادی مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مادہ و صورت، بالقوۃ و بالفعل اور علت و معلول کے تصورات بھی اس کے فلسفیانہ نظام میں اہم مقام رکھتے ہیں۔
بالقوۃ اور بالفعل کا فرق خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ کسی شے میں ایک صلاحیت موجود ہوسکتی ہے جو ابھی مکمل طور پر متحقق نہ ہوئی ہو۔ جب یہ صلاحیت تحقق اختیار کرتی ہے تو اسے بالفعل ہونے کے حوالے سے سمجھا جاتا ہے۔ اس تصور کے ذریعے ارسطو حرکت، تبدیلی اور تکمیل کی وضاحت کرتا ہے۔ اسی طرح علل کی تحقیق کے ذریعے وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کسی موجود کے ہونے یا کسی واقعے کے پیش آنے کی بنیادی توضیح کیا ہے۔
ارسطو کے تصورِ وجود میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ وجود کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن ان معانی کا تعلق ایک دوسرے سے بالکل منقطع نہیں۔ اس کے نزدیک موجودات کے مختلف معانی کی توضیح میں جوہر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تصور کو بعد کی اصطلاح میں محض لفظی اشتراک کہنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ارسطو مختلف معانی کے درمیان ایک منظم تعلق قائم کرتا ہے۔
تاہم ارسطو کے نظریے کو ملا صدرا کے نظریۂ اصالتِ وجود کے برابر قرار دینا بھی تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ ارسطو نے وجود، جوہر اور علت کے مسائل کو منظم کیا، لیکن بعد کے اسلامی فلسفے میں وجود و ماہیت کی خارجی حیثیت اور اصالتِ وجود کے بارے میں جو مخصوص مباحث سامنے آئے، وہ ایک طویل فلسفیانہ ارتقا کا نتیجہ تھے۔ ارسطو کی بنیادی اہمیت اسی میں ہے کہ اس نے ان سوالات کو فلسفے کی مرکزی بحثوں میں شامل کیا۔
فارابی اور ابن سینا: وجود و ماہیت کا امتیاز
اسلامی فلسفے میں فارابی نے یونانی فلسفیانہ میراث کو سمجھنے اور اسے ایک مربوط علمی روایت میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے منطق، مابعد الطبیعیات اور علمِ الٰہی کے مباحث کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ تصورِ وجود کی تفصیلی بحث میں ابن سینا کی تصانیف زیادہ نمایاں مقام رکھتی ہیں، لیکن فارابی کی خدمات کے بغیر اسلامی مشائی فلسفے کی تاریخی تشکیل کو پوری طرح سمجھنا مشکل ہے۔
ابن سینا (980–1037ء) کے فلسفے میں وجود و ماہیت کا امتیاز ایک بنیادی مقام رکھتا ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے یہ سوال سامنے رکھنا مفید ہے کہ کسی چیز کو جان لینا کہ وہ کیا ہے، کیا اس بات کو جان لینے کے برابر ہے کہ وہ موجود بھی ہے؟ مثال کے طور پر، انسان مثلث کی تعریف اور اس کی خصوصیات سے واقف ہوسکتا ہے، لیکن صرف اس تعریف سے کسی مخصوص مثلث کا خارجی وجود ثابت نہیں ہوتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ماہیت کا تصور اور خارجی تحقق دو الگ پہلو ہیں۔
ابن سینا کی کتاب الشفاء، الٰہیات میں یہ بحث مابعد الطبیعیاتی استدلال کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ان کے نزدیک ممکن الوجود اپنی ذات کے اعتبار سے نہ موجود ہونا ضروری رکھتا ہے اور نہ معدوم ہونا۔ اس کے وجود میں آنے کے لیے علت درکار ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف واجب الوجود کا وجود کسی خارجی علت پر موقوف نہیں ہوتا۔ اسی فرق کے ذریعے ابن سینا علت و معلول اور وجود کی ضرورت و امکان کو علمِ الٰہی کے ساتھ مربوط کرتے ہیں (Ibn Sina, The Metaphysics of The Healing, trans. Michael E. Marmura, 2005)۔
ابن سینا کے نظریے کی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے وجود کے مسئلے کو محض لغوی یا منطقی بحث تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے ممکنات کے تحقق اور واجب الوجود کے اثبات کے ساتھ مربوط کیا۔ اس کے باوجود ان کے نظریے کو بعد کے فلسفیانہ مباحث کا آخری نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعد کے فلاسفہ نے یہ سوال اٹھایا کہ وجود و ماہیت کے درمیان فرق کو خارجی حقیقت میں کس طرح سمجھا جائے، اور آیا خارج میں وجود بالاصالت متحقق ہے یا ماہیت۔
یہی سوال اسلامی فلسفے میں ایک نئی بحث کی بنیاد بنا۔ سہروردی اور ملا صدرا کے اختلاف کو سمجھنے کے لیے ابن سینا کی یہ تحلیل اہم پس منظر فراہم کرتی ہے۔
سہروردی: حکمتِ اشراق اور نور کی حقیقت
شیخ شہاب الدین سہروردی (1154–1191ء) نے اسلامی فلسفے میں حکمتِ اشراق کی بنیاد رکھی۔ ان کی بنیادی تصنیف حکمة الاشراق میں نور کو حقیقت اور ظہور کی مرکزی اصطلاح کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سہروردی کا فلسفہ مشائی روایت سے استفادہ کرتا ہے، لیکن وہ اس روایت کے بعض بنیادی مقدمات کو قبول کرنے کے بجائے ان پر تنقید بھی کرتا ہے۔
وجود و ماہیت کے مسئلے میں سہروردی کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے وجود کے عمومی مفہوم اور خارجی حقیقت کے تعلق کو مشائی فلسفے سے مختلف انداز میں سمجھا۔ ان کے نظام میں نور محض ایک طبیعی کیفیت نہیں، بلکہ ایک بنیادی فلسفیانہ حقیقت ہے جس کے ذریعے موجودات کے مراتب اور ظہور کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سہروردی کے موقف کو عموماً اصالتِ ماہیت کے نظریے سے مربوط کیا جاتا ہے۔ اس تعبیر کے مطابق وجود کا عمومی مفہوم ذہنی اعتبار رکھتا ہے، جبکہ خارجی حقیقت کی توضیح ماہیت یا نور کی حقیقت کے ذریعے کی جاتی ہے۔ تاہم ان کے فلسفے کو اس سادہ جملے تک محدود نہیں کرنا چاہیے کہ ان کے نزدیک وجود بالکل بے حقیقت ہے۔ سہروردی کے ہاں نور، ظہور اور مراتبِ حقیقت کا ایک مخصوص نظام موجود ہے، اور اس نظام کو ان کی اپنی اصطلاحات اور استدلال کے اندر سمجھنا ضروری ہے۔
سہروردی اور ابن سینا کے اختلاف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلامی فلسفے میں وجود و ماہیت کا مسئلہ محض پہلے سے طے شدہ نظریے کی تکرار نہیں تھا۔ مختلف فلاسفہ اس سوال پر غور کررہے تھے کہ خارجی حقیقت کو سمجھنے کے لیے وجود کا عمومی مفہوم کافی ہے یا حقیقت کی توضیح کے لیے کوئی اور بنیادی تصور درکار ہے۔ بعد میں ملا صدرا نے اسی بحث میں اصالتِ وجود کا دفاع کرتے ہوئے سہروردی کے موقف پر تنقید کی۔
ملا صدرا: اصالتِ وجود اور تشکیکِ وجود
ملا صدرا (1571–1636ء) کی حکمتِ متعالیہ اسلامی مابعد الطبیعیات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی تصنیف الحکمة المتعالیة فی الأسفار العقلیة الأربعة، جسے عموماً الأسفار الأربعة کہا جاتا ہے، وجود و ماہیت، علت و معلول، نفس، معرفت اور الٰہیات جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث کرتی ہے۔
ملا صدرا کے فلسفے کا بنیادی نظریہ اصالتِ وجود ہے۔ اس کے مطابق خارجی حقیقت میں بالاصالت وجود متحقق ہے، جبکہ ماہیت اشیا کے امتیاز اور تعین کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ اس نظریے کا مطلب یہ نہیں کہ موجودات کے درمیان فرق محض ذہنی یا خیالی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان کے خارجی تحقق کی بنیادی توضیح وجود کے ذریعے کی جانی چاہیے۔
اس نکتے کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ انسان اور درخت دو مختلف موجودات ہیں اور ان کی ماہیتیں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ملا صدرا کے مطابق اس فرق کو تسلیم کرنے کے باوجود خارجی حقیقت کی بنیاد وجود ہے۔ ماہیت ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ایک موجود دوسرے سے کس اعتبار سے مختلف ہے، لیکن اس کی خارجی موجودگی کی بنیادی حقیقت وجود ہے۔
اصالتِ وجود کے ساتھ ملا صدرا کا دوسرا اہم نظریہ تشکیکِ وجود ہے۔ اس کے مطابق وجود کی حقیقت وحدت رکھتی ہے، لیکن موجودات کے درمیان شدت و ضعف، کمال و نقص اور تقدم و تأخر کے اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے۔ اس طرح وحدت اور کثرت کو دو بالکل الگ اور غیر متعلق حقائق سمجھنے کے بجائے ایک ہی وجودی نظام کے مختلف پہلوؤں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تشکیکِ وجود کو صرف اس معنی میں نہیں سمجھنا چاہیے کہ لفظِ وجود مختلف چیزوں کے لیے مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ملا صدرا کا دعویٰ اس سے زیادہ گہرا ہے: ان کے نزدیک موجودات کی کثرت کے باوجود حقیقتِ وجود کے مراتب میں ایک بنیادی ربط موجود ہے۔ یہ نظریہ ان کے پورے مابعد الطبیعیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ملا صدرا کے فلسفے میں علت و معلول کا تعلق بھی اسی وجودی تصور کے ساتھ مربوط ہے۔ ممکن موجودات اپنے وجود میں علت کے محتاج ہیں؛ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے اس طرح مستقل نہیں کہ ان کی حقیقت کو ان کی علت سے بالکل الگ کرکے مکمل طور پر سمجھا جاسکے۔ اس زاویے سے علت و معلول کا تعلق محض دو الگ اشیا کے درمیان خارجی رابطہ نہیں رہتا، بلکہ معلول کے وجود کی وابستگی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اسی طرح ملا صدرا کا نظریۂ حرکتِ جوہری بھی اہم ہے۔ ارسطو کے فلسفے میں مادہ و صورت اور بالقوۃ و بالفعل کے تصورات حرکت کی توضیح میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ملا صدرا ان مباحث کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ مادی موجودات میں حرکت صرف ظاہری اوصاف یا مکانی تبدیلی تک محدود نہیں، بلکہ جوہر کی سطح پر بھی تدریجی تغیر واقع ہوتا ہے۔ اس نظریے کے ذریعے وجود، حرکت اور تغیر کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اصالتِ وجود، تشکیکِ وجود اور حرکتِ جوہری ملا صدرا کے فلسفے میں الگ الگ نظریات کی حیثیت سے موجود ضرور ہیں، لیکن ان کی مکمل اہمیت اسی وقت واضح ہوتی ہے جب انہیں ایک مربوط نظام کے طور پر پڑھا جائے۔ یہی حکمتِ متعالیہ کا بنیادی امتیاز ہے (Mulla Sadra, Al-Hikma al-Muta‘aliya fi al-Asfar al-‘Aqliyya al-Arba‘a)۔
علامہ طباطبائی: حکمتِ متعالیہ کی تنظیم اور جدید توضیح
علامہ سید محمد حسین طباطبائی (1904–1981ء) جدید دور کے اہم اسلامی فلاسفہ اور مفسرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی فلسفیانہ خدمات کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے حکمتِ متعالیہ کے پیچیدہ مباحث کو منظم درسی صورت میں پیش کیا اور انہیں جدید فلسفیانہ سوالات کے تناظر میں بھی زیرِ بحث لایا۔ ان کی کتابیں بدایة الحکمة، نهایة الحکمة اور اصولِ فلسفہ و روشِ رئالیسم اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
بدایة الحکمة بنیادی فلسفیانہ مسائل کے منظم مطالعے کے لیے لکھی گئی، جبکہ نهایة الحکمة میں انہی مباحث کو زیادہ تفصیل اور گہرائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں وجود و ماہیت، اصالتِ وجود، وحدت و کثرت، علت و معلول اور وجود کے مراتب جیسے مسائل زیرِ بحث آتے ہیں۔ علامہ طباطبائی کا فلسفیانہ موقف بنیادی طور پر حکمتِ متعالیہ کی روایت سے وابستہ ہے، لیکن ان کی خاص خدمت یہ ہے کہ انہوں نے ان مباحث کو ایک واضح تعلیمی ترتیب اور استدلالی اسلوب کے ساتھ پیش کیا۔
ان کی تصنیف اصولِ فلسفہ و روشِ رئالیسم کی اہمیت قدرے مختلف ہے۔ اس کتاب میں فلسفیانہ حقیقت پسندی، معرفت، شکاکیت اور مادی فلسفے سے متعلق سوالات پر بحث کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مرتضیٰ مطہری کی توضیحات اور حواشی بھی وابستہ ہیں۔ اس کام میں فلسفیانہ مباحث کو ایسے اعتراضات کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے جو جدید فلسفے اور معرفت شناسی میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔
یہاں وجودیات اور معرفت شناسی کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اصالتِ وجود بنیادی طور پر اس سوال سے متعلق ہے کہ خارجی حقیقت میں بالاصالت کیا متحقق ہے۔ اس کے برخلاف معرفت شناسی یہ تحقیق کرتی ہے کہ انسانی علم کی نوعیت کیا ہے اور ہم خارجی حقیقت کو کس طرح جانتے ہیں۔ دونوں مسائل میں گہرا تعلق ضرور ہے، لیکن انہیں ایک ہی سوال سمجھ لینا درست نہیں۔
علامہ طباطبائی کے فلسفے کی اہمیت اسی میں ہے کہ انہوں نے وجودی مباحث کو ایک منظم فلسفیانہ نظام کے اندر واضح کیا اور فلسفے کو جدید فکری اعتراضات کے ساتھ مکالمے میں پیش کیا۔ اس طرح ان کی تصانیف کلاسیکی اسلامی فلسفے کے مطالعے کے ساتھ ساتھ جدید شیعی فلسفیانہ فکر کو سمجھنے کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
تقابلی جائزہ: پانچ مفکرین کے ہاں تصورِ وجود
ارسطو، ابن سینا، سہروردی، ملا صدرا اور علامہ طباطبائی کے نظریات کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ تصورِ وجود کی تاریخ ایک مسلسل علمی بحث کی تاریخ ہے، جس میں ہر مفکر نے سابقہ روایت سے استفادہ کرنے کے ساتھ اس کے بعض مسائل پر تنقید بھی کی۔
ارسطو کے ہاں بنیادی توجہ موجود بحیثیت موجود، جوہر، علت اور فعلیت کی تحقیق پر ہے۔ ابن سینا اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے وجود و ماہیت کے امتیاز اور ممکن و واجب الوجود کی تحلیل کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔ سہروردی مشائی فکر کے بعض مقدمات پر تنقید کرتے ہوئے نور اور اشراق کو حقیقت شناسی میں بنیادی مقام دیتے ہیں۔ ملا صدرا وجود کو بالاصالت حقیقت قرار دیتے ہیں اور تشکیکِ وجود کے ذریعے وحدت و کثرت کی توضیح کرتے ہیں۔ علامہ طباطبائی ان مباحث کو منظم فلسفیانہ تعلیم اور جدید فکری مکالمے کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔
ان اختلافات کی اصل نوعیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب تین بنیادی سوالات سامنے رکھے جائیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ وجود اور ماہیت کا تعلق کیا ہے اور خارجی حقیقت میں بالاصالت کس کو حاصل ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ موجودات کی کثرت کو وجود کی وحدت کے ساتھ کس طرح سمجھا جاسکتا ہے؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ ممکن موجودات کا وجود اپنی ذات سے قائم ہے یا کسی علت پر موقوف ہے؟ ان سوالات کے جوابات مختلف فلسفیانہ مقدمات پر قائم ہیں، اسی لیے ان مفکرین کے نظریات کو ایک دوسرے میں ضم کرکے پیش کرنا درست نہیں۔
اس تقابل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخی حیثیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ مثلاً ارسطو کے ہاں وجود کے مختلف معانی کی بحث اور ملا صدرا کے ہاں تشکیکِ وجود ایک دوسرے سے متعلق ضرور ہیں، لیکن دونوں کا مفہوم اور استدلال یکساں نہیں۔ اسی طرح ابن سینا کا وجود و ماہیت کا امتیاز اصالتِ وجود کے نظریے کے لیے تاریخی پس منظر فراہم کرتا ہے، لیکن اسے خود بخود اصالتِ وجود کا نظریہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
نتیجہ
ارسطو سے علامہ طباطبائی تک تصورِ وجود کی تاریخی سیر فلسفے کے ایک بنیادی سوال کی مسلسل تشکیلِ نو کی تاریخ ہے۔ ارسطو نے موجود بحیثیت موجود، جوہر اور علت کے مسائل کو منظم کیا۔ ابن سینا نے وجود و ماہیت کے امتیاز اور واجب و ممکن الوجود کی تحلیل کے ذریعے مابعد الطبیعیات کو ایک نئی استدلالی صورت دی۔ سہروردی نے حکمتِ اشراق کے ذریعے مشائی روایت کے بعض مقدمات پر تنقید کی اور نور کو بنیادی فلسفیانہ اہمیت دی۔ ملا صدرا نے اصالتِ وجود اور تشکیکِ وجود کے ذریعے وحدت، کثرت، علت اور حرکت کو ایک مربوط نظام میں سمجھنے کی کوشش کی۔ علامہ طباطبائی نے اس روایت کو منظم درسی صورت میں پیش کیا اور جدید فلسفیانہ و معرفت شناسانہ مباحث سے مربوط کیا۔
اس پوری تاریخ کا مرکزی سوال یہ ہے کہ خارجی حقیقت کی بنیادی توضیح وجود سے ہوتی ہے یا ماہیت سے، اور مختلف موجودات کی کثرت کو کسی مشترک وجودی حقیقت کے ساتھ کس طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ اس سوال کا کوئی ایک مختصر جواب اس پورے فلسفیانہ سفر کی نمائندگی نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر مفکر کے اصل متن، اس کے استدلال، اور اس کے پیش روؤں کے ساتھ اس کے اختلافات کا الگ الگ مطالعہ کیا جائے۔
اس اعتبار سے ارسطو سے علامہ طباطبائی تک کا سفر محض قدیم نظریات سے جدید نظریات تک پہنچنے کا سلسلہ نہیں، بلکہ فلسفیانہ سوالات کو نئے دلائل اور نئے تصورات کے ذریعے سمجھنے کی ایک مسلسل کوشش ہے۔ یہی تسلسل اسلامی فلسفے میں تصورِ وجود کو ایک اہم اور زندہ علمی موضوع بناتا ہے۔
مراجع و مصادر
1. Aristotle. Metaphysics. Translated with Introduction and Notes by C. D. C. Reeve. Indianapolis: Hackett Publishing Company, 2016.
2. Ibn Sina (Avicenna). The Metaphysics of The Healing. Translated by Michael E. Marmura. Provo, Utah: Brigham Young University Press, 2005.
3. Suhrawardi, Shihab al-Din. The Philosophy of Illumination: A New Critical Edition of the Text of Hikmat al-Ishraq. Edited, translated, and introduced by John Walbridge and Hossein Ziai. Provo, Utah: Brigham Young University Press, 1999.
4. Sadr al-Din Shirazi (Mulla Sadra). Al-Hikma al-Muta‘aliya fi al-Asfar al-‘Aqliyya al-Arba‘a.
5. Tabataba’i, Muhammad Husayn. Bidayat al-Hikma
6. Tabataba’i, Muhammad Husayn. Nihayat al-Hikmah.
7. Tabataba’i, Muhammad Husayn, and Murtada Mutahhari. Usul-e Falsafeh va Ravesh-e Realism
8. “Aristotle’s Metaphysics.” Stanford Encyclopedia of Philosophy.
9. “Ibn Sina’s Metaphysics.” Stanford Encyclopedia of Philosophy.
10. “Suhrawardi.” Stanford Encyclopedia of Philosophy
11. “Mulla Sadra.” Stanford Encyclopedia of Philosophy.
12. “Tabatabai, Mohammad Hosayn.” Encyclopaedia Iranica.
