سوال
اگر ائمه (ع) هر کام انجام دے سکتے هیں ، تو وه کیوں ٹروریسٹوں اور مسلح افراد کے حملوں کے مقابلے میں اپنی زیارت گاهوں کی حفاظت نهیں کر سکے هیں ؟
السلام علیکم
آئمه اطھار ع نمائندگان الہی ہیں اور الله تعالیٰ کا ہر کام حکمت کے تحت اور نظام الہی کے مطابق ہوتا ہے۔ چونکہ الله تعالیٰ نے نظام سبب و مسبب بنایا ہے اور دنیا کے معاملات کو انسان کے ارادہ و اختیار سے مشروط قرار دیا ہے اس لیے آئمہ معصومین ع بھی اسی نظام کے تحت اپنی الہی قدرت کا اظہار فرماتے ہیں۔ حرم ھای مقدسہ کا دفاع، صفائی، انتظام اہل ایمان کا فریضہ ہے بلکہ اس سے قبل حرم کی تعمیر بھی مومنین کا فریضہ ہے، اگر مومنین احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے تو اس سبب کے وجود میں آنے سے یہ مسبب و نتیجہ سامنے آئے گا کہ حرم کے تعمیر سے تزئین تک اور دفاعی امور سے دفاعی امور تک تمام کام انجام پائیں گے ۔
لیکن اگر مومنین کی ذمہ داری کا اظہار نہیں ہوگا تو مذکورہ نتیجہ بھی سامنے نہیں آ سکے گا۔
چونکہ معجزہ یا کرامت فقط چند مخصوص موارد میں وقوع پذیر ہوتا ہے اور عادی امور نظام علت و معلول و نظام سبب و مسبب کے تحت انجام پاتے ہیں۔
اسی لیے الله تعالیٰ نے نظام دفاع و نظام جھاد کو قائم فرمایا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے کہ سورۃ الحج میں کہ
وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ
اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے روکے نہ رکھتا تو راہبانہ عبادت گاہوں اور گرجوں اور دیگر عبادت گاہوں اور مساجد کو جن میں کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے منہدم کر دیا جاتا اور اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کی مدد کرے گا، اللہ یقینا بڑا طاقتور اور بڑا غالب آنے والا ہے۔
احمد فاطمی
مؤسسہ تبــــــیین