بسم رب الشہدا و الصدیقین
خونم باید برای آقای خمینی بریزد
میرا یہ خون امام خمینی رہ کے لیے ہی بہنا چاہیے !
سرگزشتِ طیبہِ انقلاب اسلامی
شہیدہ خانم طیبہ واعظی
رضوان اللہ علیہا
شہیدہ طیبہ واعظی نے 1337 ہجری شمسی میں اصفھان کے گاوں میں؛ ایک مذہبی گھرانے میں آنکھیں کھولیں.
طیبہ واعظی کے گھر والے انتہای مفلسی کا دور گزار رہے تھے. یہی وجہ تھی کہ طیبہ بہت جلد ہی غریب لوگوں کے درد و غم سے آشنا ہوگیں
طیبہ جب سات سال کی ہوئیں تو والد نے گھر میں طیبہ کی قرآن کی تعلیم شروع کی.
اسطرح طیبہ بچپن سے ہی دین و قرآن سے مکمل آ شنای حاصل کرچکی تھیں۔
جس دوران امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے.
طیبہ کے والد، جو عالم دین بھی تھے. انقلابی جدوجہد میں مصروف تھے. طیبہ کی والدہ بھی ایک دیندار خاتون تھیں. اور اپنے شوہر کے ساتھ انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں برابر کی شریک تھیں ۔
اسی وجہ سے کئ بار ساواکی انکے گھر کی تلاشی لینے؛ انکے گھر میں گھس چکے تھے. کئ بار طیبہ کے والد کو بھی پوچھ گچھ کے لیئے لے جاچکے تھے.
طیبہ بچپن سے یہ سب دیکھ رہی تھی. اسی لیئے بچپن سے ہی امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ سے محبت اور ظلم کے خلاف نفرت اس کے دل میں بیٹھ گئ تھی.
طیبہ دیکھ رہی تھی کہ؛ ماں، باپ اکثر روزے سے ہوتے ہیں. لہذا اس نے بھی 6 سال کی عمر میں پہلا روزہ رکھا. اور پھر یکے بعد دیگرے 15 روزے رکھے.
ماں نے کہا : طیبہ تم پہ روزے واجب نہیں ہیں. ھفتہ میں ایک روزہ رکھ لیا کرو. اسطرح بیمار ہوجاو گی ۔
طیبہ نے جواب میں کہا :
میں نے آٹھ روزے امام خمینی کی سلامتی اور سات روزے اپنے بابا کی صحت و سلامتی کے لیئے رکھے ہیں.
شھیدہ طیبہ واعظی کی والدہ سے نقل ہے.
1964 میں اور شھروں کی طرح قم میں بھی شاہ کی حکومت اور انقلابیوں کے درمیان جھڑپیں اپنے عروج پر تھیں.
جتنے بھی نعرے؛ شاہ کے خلاف اور امام خمینی کی حمایت میں لگاے جاتے. سب طیبہ کو یاد ہو گیئے تھے.
طیبہ صحن میں گول گول گھومتی رہتی اور نعرے لگاتی جاتی. میں اسکو چپ کراتی اور کہتی :
ساواکی باہر ٹہل رہے ہیں اگر انہوں نے سن لیا تو تمہیں پکڑ کر لے جایئں گے.
مگر طیبہ اپنی دھن میں رہتی.
ایک بار طیبہ اسی طرح نعرے لگاتی؛ صحن میں چکر لگا رہی تھی کہ ٹھوکر کھا کر گری. چہرہ زخمی ہوگیا اور ناک میں سے خون آنے لگا.
میں نے کہا :
دیکھا میں تمہیں منع کرتی ہوں، تم نہیں سنتیں، اب زخمی ہو ہی گئیں. کتنا خون نکل رہا ہے.
طیبہ نے فورا کہا :
ماما! خدا نہ کرے جو یہاں میرا خون بہے. میرا خون تو امام خمینی کے لیئے بہنا ہے.
طیبہ اگرچہ بہت چھوٹی تھی مگر یہ بات سمجھ گئ تھی کہ امام خمینی کتنی اہم اور عظیم شخصیت ہیں.
اسی لیئے امام کی محبت اس کے دل میں پروان چڑھ رہی تھی. وہ یہ بات سمجھ گئ تھی کہ اسے کسطرح بڑے ہونا ہے.
طیبہ جب پانچ سال کی تھی ایک روز مجھ سے کہا :
امی جان
مجھے بھی چادر بنا کر دیں میں بھی آپ کی طرح حجاب کروں گی.میں نے اسے چھوٹی سی کالی چادر بنا کر دی.
طیبہ جہاں بھی جاتی یہ چادر پہن کر جاتی؛ اور اپنا چہرہ بھی پورا چھپا لیتی.
میں اس سے کہتی :
طیبہ ! اپنا چہرہ اتنا ڈھانپ کر مت چلو؛ گر پڑو گی، چوٹ لگ جاے گی تو طیبہ جواب دیتی.
میرا چہرہ نا محرم دیکھیں اس سے میرا گر جانا بہتر ہے.
اور یہ بات طیبہ نے اسوقت کہی؛ جب وہ صرف پانچ سال کی تھی.
شھیدہ طیبہ کی والدہ سے نقل ہے.
طیبہ نے بچپن سے ہی ظلم کے خلاف جدوجھد کا آغاز کردیا تھا . جیسے جیسے طیبہ بڑی ہورہی تھی؛ شھید مطھری کی کتابوں کے مطالعے اور مذہبی پروگراموں میں شرکت کے باعث پوری آگاہی کے ساتھ وارد عمل ہوچکی تھی.
طیبہ کا بھای مجھ سے کہتا :
امی جان :
طیبہ بہت سمجھدار اور ہوشیار ہے. میں جب بھی سیاسی حوالے سے کسی مشکل میں پھنس جاتا ہوں اور طیبہ سے مشورہ کیا ہے؛ تو طیبہ نے ھمیشہ ایسی راہ حل میرے سامنے رکھی کہ میرے ذہن میں نہیں آی اور ہمیشہ نتیجہ مثبت نکلا ہے.
شادی
شرعی بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد تیرہ سال کی عمر میں طیبہ کی شادی اس کے خالہ زاد سے کر دی گئ.
طیبہ کا شوہر؛ ابراھیم ایک مذہبی لڑکا تھا.
ابراھیم ,شاہ کی حکومت کے خلاف ہونے والی سیاسی سرگرمیوں میں بھی شامل تھا. اور مکمل مجاھدانہ زندگی گزار رہا تھا.
یہیں سے طیبہ کی زندگی کے راستے کا بھی تعین ہوگیا.
طیبہ کے شوہر نے جب دیکھا کہ! طیبہ؛ مجاھدانہ زندگی گزارنے اور انقلابی کاروائیوں میں شرکت کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے، تو طیبہ کو اپنے سیاسی گروپ 《مھدویون 》میں شامل کرلیا.
شہیدہ طیبہ کی والدہ نے مزید بتایا ;
طیبہ جب ساتھ سال کی تھی، میرے ساتھ قالین بنواتی اور کہتی :
امی جان ! میں دن میں جب قالین بننے کے لیئے بیٹھتی ہوں تو اس کے پیسے میرے جہیز کے لیئے رکھ دیں.
اور رات میں جو قالین بنتی ہوں اس کے پیسے امام خمینی کے لیئے جمع کرلیں.
جب امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ ایران واپس آیئں گے تو میں اپنے جمع کیئے ہوے پیسوں سے ان کے قدموں میں بکرا قربانی کروں گی.
مغرب عشا کی نماز پڑھ کے طیبہ پورے ذوق و شوق کے ساتھ قالین بننے بیٹھتی.
اور رات بارہ بجے تک قالین بنتی.
رات میں قالین بننے کی اجرت زیادہ تھی. ہر رات کے اسے چار تومان ملتے.
طیبہ یہ سب پیسے میرے پاس رکھواتی اور میں اس میں سے کچھ پیسے اسے خرچ کے لیئے دیتی تو وہ اپنے لیئے کچھ بھی نہیں لیتی بلکہ سب غریب بچوں کے لیئے چیزیں خرید کر خرچ کر دیتی.
ہمیں طیبہ کے اس ایثار ہمدردی اور شعور کو دیکھ کر بہت حیرانی ہوتی تھی.
ہمیں لگتا ہی نہ تھا کہ وہ ابھی صرف سات سال کی ہے.
وہ اپنی عمر کے بچوں سے کہیں زیادہ سمجھدار تھی. سات سال میں ہی وہ قران حفظ کرچکی تھی اور سکول میں بھی انتہای منظم اور ذہین شاگردوں میں شمار ہوتی تھی.
اس کی اس بردباری اور سمجھداری کو دیکھتے ہوے ہم نے تیرہ سال کی عمر میں ہی اس کی شادی کردی.
شھیدہ طیبہ کی والدہ نے بتایا :
طیبہ جب چھوٹی تھی
ایک بار عید نوروز کے موقع پر میں نے طیبہ کے لیئے بہت خوبصورت فراک خریدی جس پر سرخ و سفید پھول بنے ہوے تھے. طیبہ یہ فراک دیکھ کر بہت خوش ہوی. خوشی خوشی اسے پہن کر اپنے بھای کے ساتھ باہر گئ.
تھوڑی دیر میں گھر میں آی اور وہ فراک اتار کر رکھ دی.
میں پوچھا :
طیبہ سب بچوں نے نیئے کپڑے پہنے ہوے ہیں . تم نے اپنی فراک کیوں تبدیل کرلی.؟
طیبہ نے جواب دیا :
امی جان
میں یہ نئے کپڑے پہن کر باہر جاوں گی، تو جن بچوں کے امی اور بابا نہیں ہیں, یا وہ بچے جن کے امی بابا ان کے لیے نئے کپڑے نہیں خرید سکتے؛ مجھے نئے کپڑے پہنے دیکھ کر انکا دل بھی چاہے گا ۔ میں نہیں چاہتی انکا دل ٹوٹ جاے ۔
میں ان بچوں کا دل ٹوٹتے نہیں دیکھ سکتی.
لہذا یہ پرانے کپڑے ہی صحیح ہیں.
اس کے بعد سے طیبہ نے کبھی عید پر نئے کپڑے نہیں پہنے. وہ ہمیشہ یہی کہتی : جب میرے ملک کے سارے بچے عید کے دن نئے کپڑے پہنیں گے تو میں بھی پہن لوں گی.
شھیدہ طیبہ کی والدہ نے ؛ طیبہ کی شادی کا قصہ بیان کرتے ہوے کہا کہ :
طیبہ کی شادی پر اسکے سب کزنز مل کر ہلہ گلہ کرنا چاہتے تھے.
طیبہ نے سب کو سختی سے منع کردیا اور کہا :
میں قصیدے کا مصرہ پڑھتی ہوں تم اٹھانا.
پھر طیبہ نے پڑھنا شروع کیا.
《یا دائم الفضل علی البریتہ، یا باسط الیدین بالعطیتہ، صل علی محمد و آل محمد
اسطرح طیبہ نے محمد و آل محمد کے پاک ناموں سے اپنی مشترکہ زندگی کا آغاز کیا
شہیدہ طیبہ واعظی کی والدہ کہتی ہیں :
طیبہ کی شادی کو ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ؛
طیبہ نے مجھ سے کہا :
امی جان اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے جہیز کی چیزیں غریب لڑکیوں کے جہیز کے لیئے دے دوں.
میں نے جواب دیا :
سب چیزیں تمہاری ملکیت ہیں. تم ان کا جو چاہو کرو. مگر اندر سے میرا دل اس بچی کو دیکھ کر افسردہ ہوجاتا تھا کہ اتنی چھوٹی عمر سے ہی اس نے دنیاوی خواہشات سے ہاتھ اٹھا لیا.
طیبہ میں روحانی قوت بہت زیادہ تھی اسکی خواہشات محدود تھیں.
طیبہ نے اپنے جہیز کی تمام چیزیں غریب گھر کی لڑکیوں کے جہیز کے لیئے اٹھا کر دے دیں.
اور خود اسی طرح قالین بننے کا کام کرکر کے غریب گھرانوں کی مدد کرتی رہی.
طیبہ کی والدہ نے پچھلی یادوں کو دہراتے ہوے بتایا :
ایک روز طیبہ ہم سے ملنے آی تو میں نے دیکھا کہ اسکےچہرے پر نیل پڑا ہوا ہے اور ایک طرف سے چہرہ سوجا ہوا ہے.
میں تڑپ گئ میری معصوم سی بچی کا یہ حال کس نے کیا.
میرے اصرار پر طیبہ نے بتایا کہ. ساواکی ان کی نگرانی کر رہے تھے ایک روز وہ تلاشی لینے گھر میں گھس آے.
ابراہیم گھر میں نہیں تھے.
طیبہ نے امام خمینی کے بیانات پر مبنی پمفلٹ بچے کے لباس میں چھپا کر بچے کو گود میں اٹھا لیا.
ساواکیوں کو جب گھر کی تلاشی میں کچھ ہاتھ نہیں آیا. تو وہ جھنجلا گیئے. اور طیبہ کے چہرے پر مکا مار کر اسکا چہرہ زخمی کردیا.
کافی عرصے تک یہ نیل طیبہ کے چہرے پر پڑا رہا.
میں نے اپنے طور سے طیبہ کو سمجھانے کی کوشش کی. مگر طیبہ نے کہا :
میں جس راہ کا انتخاب کرچکی ہوں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گی. چاہے اس راہ میری جان چلی جاے.
شھیدہ طیبہ کی والدہ نے مزید بتایا :
انقلابی کاروائیاں اپنے عروج پر تھیں. اسی کے ساتھ پکڑ دھکڑ بھی جاری تھی . طیبہ کے گھر بھی ہر دوسرے دن چھاپے پڑ رہے تھے. ان کے گھر کی کڑی نگرانی کی جارہی تھی. اسی وجہ سے انہوں نے فی الحال اپنی سرگرمیاں خفیہ کر لی تھیں.
طیبہ کے شوہر نے فیصلہ کیا کہ؛؛ خفیہ زندگی شروع کی جاے. تاکہ انقلابی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں
اور جب طیبہ کے شوہر نے طیبہ سے پوچھا کہ کیا وہ ایک اسلامی انقلاب لانے کے لیئے یہ قربانی دینے کے لیئے تیار ہے کہ گمنامی کی زندگی گزاری جاے. تو طیبہ نے بخوشی اس فیصلے کا استقبال کیا.
انہوں نے تبریز کے ایک دور افتادہ علاقے میں ایک چھوٹا سا گھر کرایہ پر لے لیا۔
میں طیبہ کے لیئے اتنی زیادہ پریشان رہنے لگی کہ ہر وقت اسے یاد کرکے گریہ کرتی. میں بستر سے لگ گئ تھی. مجھے میرا بیٹا صرف یہی بتاتا کہ وہ لوگ خیریت سے ہیں. مگر میں کہتی :
جب تک میں اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لوں گی مجھے چین نہیں آے گا . یہ ساواکی بہت جلاد ہیں. یہ میرے بچوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گے.
شہیدہ طیبہ واعظی کی والدہ کہتی ہیں :
مرتضی ( طیبہ کے بھای ) نے جب میری حد سے بڑھتی بےقراری دیکھی تو ایک روز مجھ سے کہا کہ؛ :
آپ طیبہ سے حرم امام زادہ پہ مل لیں.
میں جب وہاں پہنچی. تو ایک خاتون مجھے اپنی سمت آتی دکھای دی. اسکی گود میں بچہ تھا. اور اس نے انتہای پرانی اور پیوند لگی چادر پہنی ہوی تھی.
چادر پہ جگہ جگہ پیوند لگے تھے. وہ خاتون میرے پاس آی اور میرے گلے لگ گئ. ہاں وہ میری طیبہ تھی. میری پھول سی بیٹی
کتنا مرجھا گئ تھی میں اس کا یہ حال دیکھ کر بے تحاشہ رونے لگی. میرا دل کٹا جارہا تھا.
طیبہ نے میرے آنسو پونچھے اور صرف ایک جملہ مجھ سے کہا :
امی جان ;
میرے لیئے اتنی بے قراری نہ کریں.
دعا کریں خدا مجھے شہید اس دنیا سے اٹھاے.
بس وہ طیبہ سے میری آخری ملاقات تھی.
طیبہ نے مجھے ایک خط لکھ کر بھجوایا.
اس میں لکھا کہ :
امی جان
السلام علیکم
ہماری واپسی کی دعا مت کریں. ہم جس راستے کا انتخاب کرچکے ہیں واپسی ناممکن ہے اور اس راستے کا اختتام صرف شہادت کی موت ہے کیونکہ ہمیں کچھ نہیں معلوم کہ کب تک ظلم کے مقابل ڈٹے رہنا ہے ۔
ہم اگر اس راہ کو چھوڑ بھی دیں اور بے اعتنا ہو جائیں ۔ کسی کے دکھ کو محسوس کیئے بغیر اپنی دنیا میں مگن ہو جایئں. تو کیا ایسی زندگی کا کوی فائدہ ہے،؟ آج اسلام کو ہماری ضرورت ہے. ہمارے خون کی ضرورت ہے ہمارا خون اسلام کی راہ میں بہہ جانا چاہئے.
شھیدہ طیبہ کی والدہ نے مزید بتایا کہ. :
طیبہ کی شھادت کے بعد ایک روز طیبہ کی مالک مکان ہم سے ملنے آیئں.
انہوں نے ہمیں طیبہ کے حوالے سے بتایا کہ :
طیبہ اتنی با حیا اور غیرت مند لڑکی تھی کہ ہمارے گھر کے مرد طیبہ کو دیکھ کر اسکے احترام میں نگاہوں کو جھکا لیتے تھے.
ایک روز طیبہ ہمارے گھر آی. ہمارے گھر کچھ مہمان آے ہوے تھے. ہمارے سر کھلے ہوے تھے.
طیبہ نے ہمیں اسطرح دیکھ کر نصحتیں کیں. اور ہمیں حجاب کے موضوع پر قرآن کی آیتیں پڑھ سناییں. اسکے لہجہ اور گفتگو کا انداز اتنا دلنشین تھا کہ اسکی بات ہمارے دل میں اترتی چلی گئ.
اس دن کے بعد سے کبھی کسی نے ہمارا سر کھلا نہیں دیکھا۔
شاہ کے خلاف ہونے والی جدوجہد میں انکی الہی فعالیت کی وجہ سے شاہ کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ساواک نے ان کی نگرانی شروع کردی تھی.
اسی وجہ سے طیبہ اپنے شوہر کے ساتھ خفیہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئ. مگر انقلابی کاروائیوں میں اسی طرح شامل رہیں
تبریز کے ایک دور افتادہ جگہ پر انہوں نے چھوٹا سا گھر کرایہ پر لیا اور وہاں رہنے لگے.
طیبہ اور اس کے شوہر ابراہیم کے درمیان یہ طے پایا کہ، اگر کسی وقت ابراہیم مقررہ وقت پر گھر نہ پہنچ پاے. تو طیبہ تمام اہم دستاویزات جن میں امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کی تقاریر بھی شامل تھیں کو جلادے اور فورا گھر خالی کر کے کہیں نکل جاے.
ایک روز طیبہ نے جب دیکھا کہ، ابراہیم مقررہ وقت پر گھر نہیں پہنچا ہے تو اس نے ان تمام دستاویزات کو جلا دیا.
جن سے انقلابیوں کے رازوں اور کاموں کا پتا چلتا ہو. تاکہ یہ دستاویزات ساواک کے ہاتھ نہ لگ جائیں، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے اس گھر کی بھی نگرانی شروع ہوچکی ہے.
دوسرے روز طیبہ اپنے بھای مرتضی سے مخصوص مقام پر ملاقات کے لیئے پہنچی اور مرتضی کو ابراہیم کے گھر نہ پہنچنے کی اطلاع دی. طیبہ کی نگرانی کے تسلسل کی وجہ سے طیبہ کا بھای بھی ساواک کی نظروں میں آگیا
طیبہ واپس گھر آی اور جو اسلحہ گھر میں تھا اسے چھپانے لگی. اتنی دیر میں ساواک نے طیبہ کے گھر ہلہ بول دیا. طیبہ نے جوابی حملہ کر دیا بندوق کی آخری گولی تک اپنی جان و ناموس کا دفاع کرتی رہی. مگر بلاآخر اپنے چار مہینے کے بیٹے مھدی کے ساتھ ساواک کے ہاتھوں گرفتار کرلی گئ.
اور یہ ماں اور بیٹا اسلام و کربلا کی خاطر اس انقلاب اسلامی و راہ امام خمینی کی خاطر پابند سلاسل ہو گے
جب ساواکی طیبہ کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال کر اسے لے جا رہے تھے. اور اس کی چادر کھینچ رہے تھے تو وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی :
مجھے مار ڈالو مگر میری چادر مت کھنچو ۔
اور اسکی چادر سر پر سے ڈھلک کر زمین پر گھسٹتی جارہی تھی.طیبہ کو گرفتار کرنے کے بعد ساواکی طیبہ کے بھای کے گھر پہنچے.
جہاں مرتضی اور اس کی بیوی فاطمہ نے ساواکیوں کے سامنے دو گھنٹے تک شدید مقاومت دکھائی، جس کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کر لیئے گئے.
طیبہ کو اسکے چار ماہ کے فرزند کے ساتھ تبریز کی جیل میں منتقل کردیا گیا.
دو تین روز وہاں طیبہ سے ساواکی درندوں کی جانب سے تفتیش اور پوچھ گچھ ہوتی رہی ، مگر جب طیبہ سے کچھ نہ اگلوابسکے تو تہران میں ساواک کی مرکزی جیل بھجوادیا گیا.
وہاں طیبہ کی ملاقات اسکے شوہر سے کروائی گی جو ساواک کے شکنجوں کے زیر اثر شدید مجروح اور جاں بہ لب ہو چکا تھا.
وہاں طیبہ کو بھی سخت ترین جسمانی ایذایں دینا شروع کی گیئں.
اور پھر ان ایذا رسانی کی تاب نہ لا کر طیبہ اور اسکے شوہر جام شھادت نوش کرگیے ۔
مگر ان کی شھادت کی خبر کو مخفی رکھا گیا اور انکے جنازے , بجاے گھر والوں کی تحویل میں دینے کے سرد خانے میں ڈال دیئے گیئے.
اسی دوران طیبہ کا بھای مرتضی اور بھابی فاطمہ بھی ساواک کی ایذاوں کو تحمل نہیں کرسکے اور جام شھادت نوش کرگیے ۔
اخباروں میں مرتضی اور اسکی بیوی کی شھادت کی خبر دی گئ.
مگر؛ طیبہ اور اس کے شوہر کی شھادت کی کوی خبر نہ دی.
کچھ وقت بعد ان کی شہادت کی خبر شائع ہوئی اور تہران میں مقیم ایک عزیز نے اخبار ہم تک پہنچایا۔ مگر ساواک نے ہمارے گھر کو گھیر لیا اور ہمیں انکے مراسم شہادت کی ادائیگی کی بھی اجازت نہ دی گی
طیبہ کے چار ماہ کے بیٹے کو ساواکیوں نے یتیم خانے کے حوالے کردیا تھا ۔ وہاں یہ بتایا گیا کہ اس بچے کے ماں باپ بہت زیادہ منشیات کے استعمال کرنے کی وجہ سے مر چکے ہیں.
ساواکیوں نے اس بچے کا نام بدل کر مھدی سے شھرام رکھ دیا. تاکہ یہ بچہ بڑے ہوکر اپنا تشخص کھو بیٹھے.
ساواکیوں نے مھدی کو تبریز کے ہی یتیم خانے میں ڈالا تھا. مگر یہ جلاد اتنے بے رحم تھے اور انقلابیوں سے اتنا کینہ رکھتے تھے کہ انہوں نے کچھ عرصے کے بعد مھدی کو تبریز کے یتیم خانے سے نکال کر تہران کے یتیم خانے میں بھیج دیا، تاکہ مھدی کے رشتہ دار اسے نہ ڈھونڈ سکیں.
ان جلادوں نے کئ بار مھدی کو بیچنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکے. شہید ماں اور باپ کی۔نشانی مھدی کو خدا نے اسکے عزیزوں سے ملوا دیا.
مھدی کی پرورش اسکے دادا اور دادی نے کی.
دادا نے مھدی کو ایک بہترین انسان بنا کر معاشرے کے حوالے کیا. آج مھدی! ایران میں ڈاکٹر مھدی جعفریان کے نام سے پہچانے جاتے ہیں. یہ تہران میں مشھور ڈینٹسٹ ہیں.
شہید ابراھیم و شہیدہ طیبہ کے فرزند ڈاکٹر مھدی جعفریان سے انٹرویو کا کچھ حصہ پیش خدمت ہے
آقای مھدی آپ کو کسطرح سے ڈھونڈا، جب کہ ساواکی آپ کا نام بھی بدل چکے تھے؟
آقای مہدی :
اس زمانے میں تہران میں دو ہی یتیم خانے تھے. مجھے تو یاد نہیں مگر میرے دادا نے بتایا کہ : کیونکہ ساواکیوں نے تمہارا نام بدل دیا تھا. اس لیئے تمہاری جستجو میں ہمیں بہت مشکل ہورہی تھی.
پھر ہمیں معلوم ہوا کہ تمہیں تہران کے یتیم خانے میں منتقل کردیا ہے. ہم نے تہران میں تمہاری تلاش شروع کی.
انقلاب کی کامیابی کے بعد ساواکیوں کے پاس سے ملنے والی فائلوں سے تمہار ا نام بدل جانے کا بھی پتا چلا. ہم نے تہران کے یتیم خانوں میں تمہارا حلیہ اور نام بتایا.
میرے دادا نے بتایا کہ مجھے جب پتا چلا کہ تم اور دوتین بچوں کو اور فلاں تاریخ میں یتیم خانے لاے تھے ۔مجھے ان دو سالوں میں تمہاری شکل زیادہ یاد نہیں رہ گئ تھی میں نے فیصلہ کیا کہ جو بچہ سب سے پہلے دوڑ کر میرے پاس آے گا میں اسی کو اپنا اپنا پوتا مان لوں گا ۔
جب وہ تمہیں اور دو تین بچوں کو اورلے کر آے ان بچوں میں سے صرف تم دوڑ کر مجھ سے لپٹ گیئے جیسے سالوں سے مجھے جانتے ہو. پھر تحقیقات سے اور مختلف ٹیسٹ وغیرہ سے پتا چلا کہ تم ہی ہمارے فرزند ہو.
آقای مھدی آپ کی جستجو دوسال بعد شروع ہوی اس سے پہلے آپ کو کیوں نہیں ڈھونڈا؟
آقای مھدی:
میرے والد ابراہیم جعفریان میرے دادا کو وصیت کرکے گیئے تھے کہ اگر ہم لوگ اس طاغوتی شیطانی ایجنسی ساواک کے ہاتھوں گرفتار ہو جایئں تو انہیں لینے کے لیئے ساواک کی منت سماجت نہ کریں اور نہ ہی انکے آگے گریہ و زاری کریں. اسی وجہ سے میرے دادا صبر کرکے بیٹھے رہے. میرے دادا کو بھی میرےب والدین کی کچھ خبر نہ تھی ۔
امام رہ کی آمد اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد جب میرے دادا کو میرے والدین کی شھادت کی خبر ملی اور یہ پتا چلا کہ مجھے یتیم خانے میں ڈال دیا ہے اور امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کو بھی ہمارے حالات کا بتایا گیا تو انہوں نے حکم دیا کہ :
شھیدہ طیبہ و شھید ابراھیم کے جنازوں کو بھی ڈھونڈ نکالا جاے اور ان کے جنازوں کو بھشت زہرا میں دفن کیا جاے اور بچے کو بھی ہر حال میں تلاش کیا جائے۔
اسطرح میرے دادا اور باقی لوگوں نے میری تلاش شروع کردی اور دوسال کی جدوجھد کے بعد جب میں چار سال کا تھا اپنے عزیزوں کے درمیان واپس آگیا.
آقای مھدی آپ کو اپنے والدین کی کمی محسوس ہوی؟
آقای مھدی :
اگرچہ میری دادی نے مجھے ماں جیسی محبت دی. اور دادا نے میری تربیت میں کوی کمی نہیں کی. مگر مجھے ہمیشہ اپنی ماں کی کمی محسوس ہوی میرا دل آج بھی اپنی ماں کے لیئے بے چین رہتا ہے. وہ بہت مظلومیت اور بے کسی کے ساتھ شہید کی گیئں.
مجھے اپنے والدین پر فخر ہے. اور میری کوشش ہے کہ ان کے راستے پر عمل پیرا رہوں. میں تبریز سے تہران اسی لیئے رہایش پذیر ہوا کہ میرے والدین یہاں بھشت زہرا میں دفن ہیں. میں ان کے نزدیک سکون محسوس کرتا ہوں.
جب بھی کوی مشکل ہو اپنی شہید ماں کی قبر پہ جاتا ہوں اور ان سے دعا و شفاعت کی درخواست ہوں.
یقیناً یہ میری شہید والدہ کی دعاوں کا ثمر ہے کہ آج میں اس مقام پر ہوں.