امروز کو تو دیکھو

*غزل۔۔۔*
وزن: *مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن*

بیکار کر رہے ہیں جو کار رہے ہیں
آباء جو کر رہے تھے، تکرار کر رہے ہیں 

کار مسیحائی جو آرہے ہیں کرنے
بنام مسیحائی بیمار کر رہے ہیں 

جن میں خلوص ہوگا وہ مخلیصین جادہ
تھی گر دکان بھی تو حق دار کر رہے ہیں

آباء پرستیوں سے پستیاں ہیں ملتی
دعا بلندیوں کی بیکار کر رہے ہیں 

وہ العجل ہے سنتا، تم العجل ہو سنتے؟ 
ہم کس کے واسطے کیا تیار کر رہے ہیں؟

فردا کی فکر چھوڑو، امروز کو تو دیکھو
کرنا ہے تم کو وہ ہی جو عمار کر رہے ہیں

ہے کس کی راہ چلنی، کس راہ پہ ہے چلنا
وہ بے راہروں سے جو پیکار کر رہے ہیں

تم بھی کرو ہم بھی، کرتے ہیں کام اپنا
جو کام اپنے اپنے سالار کر رہے ہیں

اس بزم دو جہاں میں نہ دو جاں برابر
یکسانیت کی بحثیں بیکار کر رہے ہیں 

خوں ریزیاں ہوتی ہیں دونوں ہی طرف سے
وہ انباریوں سے کام کے انبار کر رہے ہیں

اب میری سرزمین تک آگیا ہے سورج 
ابنائے ظلمتاں اب فرار کر رہے ہیں

سب مل کے جو یہ شور و پکار کر رہے ہیں
احتضار کا اپنے اقرار کر رہے ہیں

نہ ماضی میں جینے والے نہ فردا کے منتظر ہیں
ہم مطلع الفجر کا دیدار کر رہے ہیں 

الفاظ تیرے احمد کیا کار کر رہے ہیں
سب ناریوں میں ایجاد ایک نار کر رہے ہیں

وہ دن گئے کہ تنہا تھا اقبال انجمن میں 
ہم اس کے ہم نفس کا دیدار کر رہے ہیں

وہ کہہ رہا ہے لوگوں، دیکھو، سنو، سمجھو
یہ کون لوگ دین کو بازار کر رہے ہیں 

رزم فاطمی کو رزم و فاطمی اب
کرنے کو خود کو اب کرار کر رہے ہیں

اندھے بہرے گونگے چوپاہے کی نسل ہیں
بازاریوں پہ اب بھی اعتبار کر رہے ہیں

وہ کہہ رہے ہیں شب میں اشعار کر رہے ہیں
صبح ظہور کو ہم اشکار کر رہے ہیں

تنہائیوں میں سنتے ہو جس خبر کو احمد
وہ دیکھو کل اسی کو اخبار کر رہے ہیں

سوال یا سروس کی درخواست جمع کروائیں