اسماء کی بحث

یہ جو اسماء کی بحث ہے اس میں ایک  نقطہ تو یہ ہے کہ اسم شخصیت کی تجلی گاہ ہوتا ہے۔ اسم اور الفاظ میں فرق کرنے کی ضرورت ہے ۔ مثلاََ ا ل  ل ہ چار حرف ہیں ، جنکے ملاپ سے اللہ بنتا ہے۔ یہ اسمِ ذاتِ احدیت کی لفظی صورت ہے، خود اسم نہیں۔ اسم ِ ذات احدیت  اسکی ذاتِ بےمثل  کی تجلی گاہ اور اسکی صفات  کاآئینہ ہے، یہ اسمِ اعظم ذاتِ احدیت کا سب سے پہلا خلیفہ بمعنی عکاسِ صفات ہے۔ 

اسی طرح ہمارے اسماء ہیں، جو کہ ہماری شخصیت کا آئینہ ہیں۔ پاکستانی معاشرہ ایک عجیب خلفشار کا شکار ہے، اگرچہ یہ خلفشار ہماری سرحدوں کو عبور کر کے باہر جا چکا ہے ، مگر ہم اپنی سرزمین کی بات کریں گے۔ یہاں کے لوگوں  کے نام غلام، فقیر، عبد، بندہ، کنیز، خادم، نوکر۔۔۔ علیٰ ہذا القیاس۔ اب آپ خود بتائیں جس سماج کے افراد کی شخصیت ہی غلامانہ ہو اور نسبتی اسماء کی ایک بھرمار مچی ہوئی ہو۔ وہ کیونکر غلامانہ سوچ اور استقلالی شخصیت کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ 

ہم جانتے ہیں کہ فوراََ آواز آئے گی کہ یہ غلامانہ نسبت صاحبانِ عظمت کے ساتھ ہے اور  یہی اسکا جواز اور دلیل ہے۔ ان کے جواب میں ہم کہیں گے کہ شاید آپ خود کو اُنہی صاحبانِ عظمت سے زیادہ عقل مند سمجھنے لگے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اُنہی صاحبانِ عظمت  میں سے کسی ایک کا نام بھی آدم علیٰ نبینا و آلہ و علیہ الصلواۃ و السلام  سے لے کر  منبعِ عظمت و عزت ختمی مرتبتؐ تک اور حبیبِ  کاملؐ سے لے کر ولی ِ عصر عج تک کسی بھی ہستی کا یا انکی اولاد کا  مصدقہ نام بھی اس قسم کا دکھائیں۔  القاب و خطابات  کی بحث اسماء سے جدا ہے۔ فعتبرو یا اولی الالباب

 

سوال یا سروس کی درخواست جمع کروائیں